فقہ المسیح — Page 239
فقه المسيح 239 قربانی کے مسائل آپ ساتویں دن ہمیں یاد دلا دیں اور گھر خط لکھ دیں کہ ساتویں دن اس کے بال منڈوا دیں۔چنانچہ ساتویں روز حضور نے دو بکرے منگوا کر ذبح کرا دیئے اور فرمایا گھر خط لکھ دو۔عقیقہ کے واسطے کتنے بکرے مطلوب ہیں؟ (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 38) ایک صاحب کا حضرت اقدس کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکا پیدا ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ وہ عقیقہ پر صرف ایک بکرا ہی ذبح کرے؟ فرمایا: عقیقہ میں لڑکے کے واسطے دو بکرے ہی ضروری ہیں۔لیکن یہ اس کے واسطے ہے جو صاحب مقدرت ہے۔اگر کوئی شخص دو بکروں کے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا اور ایک خرید سکتا ہے تو اس کے واسطے جائز ہے کہ ایک ہی ذبح کرے اور اگر ایسا ہی غریب ہو کہ وہ ایک بھی قربانی نہیں کر سکتا تو اس پر فرض نہیں کہ خواہ مخواہ قربانی کرے۔مسکین کو معاف ہے۔حقیقہ کی سنت دو بکرے ہی ہیں ( بدر 26 دسمبر 1907 ، صفحہ 2) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے تولد فرزند کے عقیقہ کے متعلق سوال کیا۔فرمایا: لڑکے کے عقیقہ کے لئے دو بکرے قربان کرنے چاہئیں میں نے عرض کی کہ ایک بکرا بھی جائز ہے؟ حضور نے جواب نہ دیا۔میرے دوبارہ سوال پر ہنس کر فرمایا: ”اس سے بہتر ہے کہ عقیقہ نہ ہی کیا جاوے۔‘ ایک بکرا کے جواز کا فتویٰ نہ دیا۔میری غرض یہ تھی کہ بعض کم حیثیت والے ایک بکرا قربانی کر کے بھی عقیقہ کر سکیں۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 155)