فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 611

فقہ المسیح — Page 228

فقه المسيح 228 حج <mark>آستانہ</mark> کو <mark>بوسہ</mark> دیتی ہے۔<mark>ایسا</mark> ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک <mark>نمونہ</mark> دیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ <mark>حجر</mark> <mark><mark>اس</mark>ود</mark> میرے <mark>آستانہ</mark> کا <mark>پتھر</mark> ہے ( حاشیہ:۔خدا کا <mark>آستانہ</mark> مصدر فیوض ہے یعنی <mark>اس</mark>ی کے <mark>آستانہ</mark> سے ہر یک فیض ملتا ہے پس <mark>اس</mark>ی کے لئے معبرین لکھتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں <mark>حجر</mark> <mark><mark>اس</mark>ود</mark> کو <mark>بوسہ</mark> <mark>دے</mark> تو علوم روحانیہ <mark>اس</mark> کو حاصل ہوتے ہیں کیونکہ <mark>حجر</mark> <mark><mark>اس</mark>ود</mark> سے مراد منبع علم و فیض ہے۔منہ) اور <mark>ایسا</mark> حکم <mark>اس</mark> لئے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کرے سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر <mark>اُس</mark> گھر کے گرد گھومتے ہیں ایسی صورتیں بنا کر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں۔زینت دُور کر <mark>دیتے</mark> ہیں سرمنڈوا <mark>دیتے</mark> ہیں اور مجذوبوں کی شکل بنا کر <mark>اس</mark> کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور <mark>اس</mark> <mark>پتھر</mark> کو خدا کے <mark>آستانہ</mark> کا <mark>پتھر</mark> تصور کر کے <mark>بوسہ</mark> <mark>دیتے</mark> ہیں اور یہ جسمانی ولولہ روحانی تپش اور محبت کو پیدا کر دیتا ہے اور جسم <mark>اس</mark> گھر کے گرد طواف کرتا ہے اور سنگ <mark>آستانہ</mark> کو چومتا ہے اور رُوح <mark>اُس</mark> وقت <mark>محبوب</mark> حقیقی کے گرد طواف کرتی ہے اور <mark>اس</mark> کے رُوحانی <mark>آستانہ</mark> کو چومتی ہے اور <mark>اس</mark> طریق میں کوئی شرک نہیں ایک دوست ایک دوست جانی کا خط پا کر بھی <mark>اُس</mark> کو چومتا ہے کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ <mark>حجر</mark> <mark><mark>اس</mark>ود</mark> سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خدا کا قرار دادہ ایک جسمانی <mark>نمونہ</mark> سمجھا جاتا ہے وبس۔جس طرح ہم <mark>زمین</mark> پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ <mark>زمین</mark> کے لئے نہیں <mark>ایسا</mark> ہی ہم <mark>حجر</mark> <mark><mark>اس</mark>ود</mark> کو <mark>بوسہ</mark> <mark>دیتے</mark> ہیں مگر وہ <mark>بوسہ</mark> <mark>اس</mark> <mark>پتھر</mark> کے لئے نہیں <mark>پتھر</mark> تو <mark>پتھر</mark> ہے جو نہ <mark>کسی</mark> کو <mark>نفع</mark> <mark>دے</mark> <mark>سکتا</mark> ہے نہ <mark>نقصان</mark>۔مگر <mark>اُس</mark> <mark>محبوب</mark> کے <mark>ہاتھ</mark> کا ہے جس نے <mark>اُس</mark> کو اپنے <mark>آستانہ</mark> کا <mark>نمونہ</mark> <mark>ٹھہرایا</mark>۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 99 تا 101 ) حج کی شرائط اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام دیئے ہیں۔بعض اُن میں سے ایسے ہیں کہ اُن کی بجا آوری ہر ایک کو میسر نہیں ہے، مثلاً حج۔یہ <mark>اُس</mark> آدمی پر فرض ہے جسے <mark>اس</mark>تطاعت ہو، پھر ر<mark>اس</mark>تہ