فقہ المسیح — Page 220
فقه المسيح 220 میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بھی مجھ سے یہی بیان کیا ہے۔اعتکاف کے دوران بات چیت کرنا روزہ اور رمضان (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 62 سوال: جب آدمی اعتکاف میں ہو تو اپنے دنیوی کاروبار کے متعلق بات کر سکتا ہے یا نہیں؟ جواب : سخت ضرورت کے سبب کر سکتا ہے اور بیمار کی عیادت کے لئے اور حوائج ضروری کے واسطے باہر جاسکتا ہے۔( بدر 21 فروری 1907 ، صفحہ 5 اعتکاف کے متعلق بعض ہدایات ڈاکٹر عباداللہ صاحب امرتسر اور خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر ( جو دونوں معتکف تھے ) کو مخاطب کر کے فرمایا: اعتکاف میں یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان اندر ہی بیٹھا رہے اور بالکل کہیں آئے جائے ہی نہ۔چھت پر دھوپ ہوتی ہے وہاں جا کر آپ بیٹھ سکتے ہیں کیونکہ نیچے یہاں سردی زیادہ ہے اور ہر ایک ضروری بات کر سکتے ہیں۔ضروری امور کا خیال رکھنا چاہئے اور یوں تو ہر ایک کام مومن کا ) عبادت ہی ہوتا۔تا ہے۔البدر 2 جنوری 1903 صفحہ 74) اعتکاف چھوڑ کر مقدمہ کی پیشی پر جانے کو نا پسند فرمایا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مولوی شیر علی صاح کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے زمانہ میں حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اعتکاف بیٹھے مگر اعتکاف کے دنوں میں ہی ان کو کسی مقدمہ میں پیشی کے واسطے باہر جانا پڑ گیا۔چنانچہ وہ اعتکاف تو ڑ کر عصر کے قریب یہاں سے جانے لگے تو حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ کو مقدمہ میں جانا تھا تو اعتکاف بیٹھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 97)