فقہ المسیح — Page 217
فقه المسيح 217 روزہ اور رمضان روز ودار کا آنکھوں میں سرمہ ڈالنا سوال پیش ہوا کہ روزہ دار آنکھوں میں سرمہ ڈالے یا نہ ڈالے؟ فرمایا: مکروہ ہے اور ایسی ضرورت ہی کیا ہے کہ دن کے وقت سرمہ لگائے۔رات کو سرمہ لگا سکتا ہے۔66 ( بدر 7 فروری 1907 ، صفحہ 4) نماز تراویح اکمل صاحب آف گولیکی نے بذریعہ تحریر حضرت سے دریافت کیا کہ رمضان شریف میں رات کو اُٹھنے اور نماز پڑھنے کی تاکید ہے لیکن عموما محنتی ، مزدور، زمیندار لوگ جو ایسے اعمال کے بجالانے میں غفلت دکھاتے ہیں اگر اول شب میں ان کو گیارہ رکعت تراویح بجائے آخر شب کے پڑھادی جائیں تو کیا یہ جائز ہوگا۔حضرت اقدس نے جواب میں فرمایا وو کچھ حرج نہیں ، پڑھ لیں۔“ ( بدر 18 اکتوبر 1906 صفحہ 4) تراویح کی رکعات تراویح کے متعلق عرض ہوا کہ جب یہ تہجد ہے تو ہیں رکعات پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع وتر گیارہ یا تیرہ رکعت ہے۔فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دائمی تو وہی آٹھ رکعات ہے اور آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے اور یہی افضل ہے مگر پہلی رات بھی پڑھ لینا جائز ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ نے رات کے اول حصے میں اُسے پڑھا۔ہمیں رکعات بعد میں پڑھی گئیں مگر