فقہ المسیح — Page 211
فقه المسيح 211 روزہ اور رمضان واسطے ہے تاکہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو تو فیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا تعالیٰ طاقت بخش دے گا۔فدیہ دینے سے روزہ ساقط نہیں ہوتا حضرت مصلح موعودہؓ تحریر فرماتے ہیں: البدر 12 دسمبر 1902 ء صفحہ 52) فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جا تا بلکہ یہ محض اس بات کا فدیہ ہے کہ ان مبارک ایام میں وہ کسی جائز شرعی عذر کی بناء پر باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ عبادت ادا نہیں کر سکے۔آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک عارضی اور ایک مستقل۔فدیہ بشرط استطاعت ان دونوں حالتوں میں دینا چاہئے۔غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے بہر حال سال دو سال یا تین سال کے بعد جب بھی اُس کی صحت اجازت دے اُسے پھر روزے رکھنے ہوں گے۔سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے۔باقی جو بھی کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہواگر وہ مریض یا مسافر ہے تو اُس کے لئے ضروری ہے کہ رمضان میں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے اور دوسرے ایام میں روزے رکھے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذہب تھا اور