فقہ المسیح — Page 209
فقه المسيح 209 روزہ اور رمضان پہلے کبھی کبھی بانتظار نماز یاں بیٹھتے تھے۔میری عادت تھی کہ میں ضرور اس جگہ پہنچ جایا کرتا تھا جہاں حضور بیٹھتے تھے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں دور رہا ہوں۔اگر ایسا اتفاق ہوتا بھی جو صرف ایک دفعہ ہوا تو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی سامان کر دیتا کہ میں قریب پہنچ جاؤں۔غرض جب حضور ظہر کی نماز کے واسطے تشریف لاتے میں طبیعت کا حال دریافت کرتا تو فرماتے کہ سردی معلوم ہورہی ہے۔بعض دفعہ فرماتے کہ نماز پڑھو۔سردی زیادہ معلوم ہورہی ہے مگر باوجود علالت کے حضور روزہ برابر رکھتے تھے۔ایک دن میں نے عرض کیا کہ تپ کی تکلیف ہے اور کئی دن ہو گئے ہیں۔اگر روزہ افطار کر دیا ( یعنی بوقت بخار کھول یا توڑ لیا ) کریں تو بہتر ہو ) فرمایا کہ روزہ کی وجہ سے کچھ تکلیف محسوس نہیں ہوتی ہے بلکہ آرام معلوم ہوتا ہے۔بھوک پیاس کچھ معلوم نہیں ہوتی۔رات کو البتہ کچھ زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے روزہ رکھ لیتا ہوں۔صبح کو تپ اتر جا تا تھا تو حضور سیر کو تشریف لے جایا کرتے تھے۔( اصحاب احمد جلد 10 صفحہ 397 ، 398 نیا ایڈیشن روایت حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب) بیماری میں روزہ کے متعلق حضرت مسیح موعود کا معمول حضرت مصلح موعودؓ سے سوال پوچھا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ بیمار رہتے تھے کیا روزہ رکھتے تھے؟ آپ نے فرمایا: حضرت صاحب خوب روزہ رکھتے تھے مگر چونکہ آخر میں کمز ور زیادہ ہو گئے تھے اور مرض میں بھی زیادتی تھی اس لئے تین سال کے روزے نہیں رکھے، یعنی 7،6،5 (1905، 1906 اور 1907 ء مراد ہے۔ناقل ) الفضل 12 جون 1922 ، صفحہ 7) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔دوسرا رمضان آیا تو