فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 611

فقہ المسیح — Page 202

فقه المسيح 202 روزہ اور رمضان ظہر کے وقت روزے کھلوا دیئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں رحمت اللہ صاحب ولد حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام لدھیانہ تشریف لائے۔رمضان شریف کا مہینہ تھا۔۔۔۔ہم سب غوث گڑھ سے ہی روزہ رکھ کرلدھیانہ گئے تھے۔حضور نے والد صاحب مرحوم سے خود دریافت فرمایا، یا کسی اور سے معلوم ہوا ( یہ مجھے یاد نہیں ) کہ یہ سب غوث گڑھ سے آنے والے روزہ دار ہیں۔حضور نے فرمایا میاں عبداللہ ! خدا کا حکم جیسا روزہ رکھنے کا ہے ویسا ہی سفر میں نہ رکھنے کا ہے۔آپ سب روزے افطار کر دیں۔ظہر کے بعد کا یہ ذکر ہے۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 125) عصر کے بعد روزہ کھلوا دیا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں کوئی مہمان یہاں حضرت صاحب کے پاس آیا۔اسے اس وقت روزہ تھا اور دن کا زیادہ حصہ گذر چکا تھا بلکہ شاید عصر کے بعد کا وقت تھا۔حضرت صاحب نے اسے فرمایا آپ روزہ کھول دیں۔اس نے عرض کیا کہ اب تھوڑا سا دن رہ گیا ہے۔اب کیا کھولنا ہے۔حضور نے فرمایا آپ سینہ زوری سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔خدا تعالی سینہ زوری سے نہیں بلکہ فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے۔جب اس نے فرما دیا ہے کہ مسافر روزہ نہ رکھے تو نہیں رکھنا چاہیے۔اس پر اس نے روزہ کھول دیا۔سفر میں روزہ رکھنے پر روزہ کھلوا دیا حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی تحریر کرتے ہیں کہ :۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 97) ایک مرتبہ میں اور حضرت منشی اروڑے خان صاحب اور حضرت خان صاحب محمد خاں