فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 611

فقہ المسیح — Page 201

فقه المسيح 201 روزہ اور رمضان حضرت اقدس:۔ہاں یہ بہت عمدہ بات ہے۔میں تھوڑی دور ہو آؤں۔آپ آرام کریں۔یہ کہہ کر حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے۔) (الحلم 31 جنوری 1907 ءصفحہ 14 ) بیمار اور مسافر کے روزہ رکھنے کا ذکر تھا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ شیخ ابن عربی کا قول ہے کہ اگر کوئی بیمار یا مسافر روزہ کے دنوں میں روزہ رکھ لے تو پھر بھی اسے صحت پانے پر ماہ رمضان کے گذرنے کے بعد روزہ رکھنا فرض ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مَنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ( البقرة : 185) جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ ماہ رمضان کے بعد کے دنوں میں روزے رکھے۔اس میں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو مریض یا مسافر اپنی ضد سے یا اپنے دل کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے انہی ایام میں روزے رکھے تو پھر بعد میں رکھنے کی اس کو ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ کا صریح حکم یہ ہے کہ وہ بعد میں روزے رکھے۔بعد کے روزے اس پر بہر حال فرض ہیں۔درمیان کے روزے اگر وہ رکھے تو یہ امر زائد ہے اور اس کے دل کی خواہش ہے۔اس سے خدا تعالیٰ کا وہ حکم جو بعد میں رکھنے کے متعلق ہے ٹل نہیں سکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو بلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے ،مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتوی لا زم آئے گا۔بدر 17اکتوبر 1907 ء صفحہ 7)