فقہ المسیح — Page xxv
حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب يَقْبَلُهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا “ (بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم حدیث نمبر 3448) ترجمہ: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریب ہے کہ ابن مریم حکم عدل بن کر تم میں نازل ہوں ، وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے اور مال اس کثرت سے ہوگا کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا حتی کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو جائے گا۔اسی طرح سنن ابن ماجہ کی روایت میں حَكَمًا مُقسِطًا اور اِمَامًا عَدْلًا کے الفاظ آئے ہیں یعنی منصف مزاج حکم اور عادل امام۔(سنن ابن ماجه كتاب الفتن باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم ) پیشگوئی کے عین مطابق آپ نے دعویٰ فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور حکم ہو کر آیا ہوں۔ابھی بہت زمانہ نہیں گزرا کہ مقلد غیر مقلدوں کی غلطیاں نکالتے اور وہ اُن کی غلطیاں ظاہر کرتے اور اس طرح پر دوسرے فرقے آپس میں درندوں کی طرح لڑتے جھگڑتے تھے ایک دوسرے کو کافر کہتے اور نجس بتاتے تھے۔اگر کوئی تسلی کی راہ موجود تھی تو پھر اس قدر اختلاف اور تفرقہ ایک ہی قوم میں کیوں تھا؟ غلطیاں واقع ہو چکی تھیں اور لوگ حقیقت کی راہ سے دور جا پڑے تھے۔ایسے اختلاف کے وقت ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ خود فیصلہ کرتا۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور ایک حکم ان میں بھیج دیا۔“ الحكم 30 ستمبر 1904 ، صفحہ 3،2) امت مسلمہ کے مسلکی اور فقہی اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لئے ضروری تھا کہ حکم غیر جانبدار ہو۔اگر حکم پہلے سے کسی فرقہ کی طرف منسوب ہو یا اپنے آپ کو مطیع اور مقلد کہتا ہو تو پھر اس کا فیصلہ کون تسلیم کرتا۔فرمایا 3