فقہ المسیح — Page 186
فقه المسيح 186 نماز جنازہ اور تدفین ایسے مخالفوں کا جنازہ پڑھا کر احمدی نے کیا لینا ہے۔جنازہ تو دعا ہے۔جو شخص خود ہی خدا تعالیٰ کے نزدیک مَغْضُوبِ عَلَيْهِم میں ہے۔اس کی دعا کا کیا اثر ہے؟ احمدی شہید کا جنازہ خود فرشتے پڑھیں گے۔ایسے لوگوں کی ہرگز پروانہ کرو اور اپنے خدا پر بھروسہ کرو۔غیر احمدیوں کی نماز جنازہ پڑھنا فرمایا:۔(بدر 16 مئی 1907 ء صفحہ 3) اگر متوفی بالجهر مکفر اور مکذب نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں کیونکہ علام الغیوب خدا کی پاک ذات ہے۔فرمایا۔جو لوگ ہمارے مکفر ہیں اور ہم کو صریحا گالیاں دیتے ہیں۔اُن سے السلام علیکم مت لو اور نہ اُن سے مل کر کھانا کھاؤ۔ہاں خرید وفروخت جائز ہے اس میں کسی کا احسان نہیں۔جو شخص ظاہر کرتا ہے کہ میں نہ اُدھر کا ہوں اور نہ ادھر کا ہوں اصل میں وہ بھی ہمارا مکذب ہے اور جو ہمار ا مصدق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں۔وہ بھی مخالف ہے ایسے لوگ اصل میں منافق طبع ہوتے ہیں۔اُن کا یہ اصول ہوتا ہے کہ با مسلماں اللہ اللہ با برهمن رام رام ان لوگوں کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہوتا۔بظاہر کہتے ہیں کہ ہم کسی کا دل دکھانا نہیں چاہتے۔مگر یا درکھو کہ جو شخص ایک طرف کا ہوگا اس سے کسی نہ کسی کا دل ضرور دُ کھے گا۔ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا البدر 24 اپریل 1903 ، صفحہ 105) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منافق کو گر تہ دیا اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھی ممکن ہے اس نے غرغرہ کے وقت تو بہ کر لی ہو، مومن کا کام ہے کہ حسن ظن رکھے اسی لئے