فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 611

فقہ المسیح — Page xxiv

حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب فَأَرْسَلَنِي اللهُ لِأَسْتَخْلِصَ الصِّيَاصِي وَأَسْتَدْنِيَ الْقَاصِي، وَأُنْذِرَ الْعَاصِي، وَيَرْتَفِعَ الإِخْتِلافُ وَيَكُونَ الْقُرْآنُ مَالِكَ النَّوَاصِي وَ قِبْلَةَ 66 الدين۔ ( آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 559 ، 560) ترجمہ: امتِ مسلمہ افتراق و انتشار کا شکار ہو گئی ہے ان میں سے بعض حنبلی ، شافعی ، مالکی ، حنفی اور شیعہ بن گئے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابتدا میں تعلیم تو ایک ہی تھی لیکن بعد میں کئی گروہ بن گئے اور ہر گروہ اپنے نقطہ نظر پر خوش ہو گیا ۔ ہر فرقہ نے اپنے اپنے مذہب کو ایک قلعہ بنا رکھا ہے اور وہ اس سے باہر نکلنا نہیں چاہتے ، خواہ دوسری طرف انہیں بہتر صورتحال ملے اور وہ اپنے بھائیوں کی بے دلیل باتوں پر ڈٹ جاتے ہیں ۔ پس اللہ نے اس صورتحال میں مجھے بھیجا تاکہ میں ایسے قلعوں سے انہیں باہر نکالوں اور جو دور ہو چکے ہیں انہیں نزدیک لے آؤں اور نافرمانوں کو ہوشیار کر دوں اور اس طرح اختلاف رفع ہو جائے اور قرآن کریم ہی پیشانیوں کا مالک اور دین کا قبلہ بن جائے ۔ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام امتِ مسلمہ کے افتراق اور انتشار اور گمراہی کے دور میں خدا کی طرف سے مامور بن کر آئے ۔ چنانچہ آپ نے خدا کے حکم سے یہ دعوی فرمایا کہ میں ہی وہ موعود مسیح اور مہدی ہوں جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کر رکھی ہے ۔ بخاری کتاب الانبیاء کی یہ مشہور حدیث دراصل آپ کے بابرکت وجود کے بارہ میں ہی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا ، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا 2