فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 611

فقہ المسیح — Page xxiii

حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب بسم اللہ الرحمن الرحیم حرف آغاز حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے حکم عدل بنا کر بھیجا جب امت مسلمہ با ہمی افتراق و انتشار کا شکار تھی اور تمام غیر مذاہب اسلام پر حملہ آور تھے اور وہ مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی پستی کا فائدہ اُٹھا کر مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کر رہے تھے۔وہ امت واحدہ جو جسد واحد کی طرح تھی لیکن باہمی اختلافات کی وجہ سے بہتر فرقوں میں بٹ چکی تھی اور عجیب بات یہ تھی کہ اختلاف کی وجوہ بنیادی اصول میں نہیں بلکہ فروعی مسائل تھے۔خدا کا کلام قرآن کریم اللہ کی رسی کی شکل میں موجود تو تھا مگر با ہمی تنازعات کی وجہ سے ہر فرقہ الگ الگ تفسیر کرتا تھا۔فقہی اور مسلکی اختلافات میں شدت آچکی تھی۔باوجود اس کے کہ گزشتہ بارہ تیرہ سو سال سے فقہی مذاہب نہروں کی شکل میں ساتھ ساتھ بہہ رہے تھے اوران میں باہمی بحث مباحثے اور مناظرے بھی ہوتے تھے تاہم اس دور میں ہر کوئی اپنے آپ کو اپنے اپنے مؤقف میں قلعہ بند کر چکا تھا اور دوسروں کی بات سنے کا بھی روادار نہیں تھا۔اس صورتحال کو حضرت مسیح موعود نے یوں بیان فرمایا ہے:۔افْتَرَقَتِ الْأُمَّةُ، وَتَشَاجَرَتِ الْمِلَّةَ فَمِنْهُمْ حَنُبَلِيٌّ وَشَافِعِيٌّ وَ مَالِكِيٌّ وَحَنَفِيٌّ وَحِزْبُ الْمُتَشَيِّعِيْنَ - وَلَا شَكٌّ أَنَّ التَّعْلِيمَ كَانَ وَاحِدًا وَلَكِنِ اخْتَلَفَتِ الْأَحْزَابُ بَعْدَ ذَالِكَ فَتَرَوْنَ كُلَّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحِيْنَ - وَ كُلُّ فِرْقَةٍ بَنِى لِمَذْهَبِهِ قَلْعَةٌ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا وَلَوْ وَجَدَ أَحْسَنَ مِنْهَا صُورَةً وَكَانُوا لِعَمَاسِ إِخْوَانِهِمْ مُتَحَصِنِيْنَ 1