فقہ المسیح — Page 177
فقه المسيح 177 نماز جنازہ اور تدفین دیکھو بدعات اور محدثات کا بازار کیا گرم ہے۔غرض مردوں کو دیکھو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان کے مشاہد میں سوا بدعات اور ارتکاب مناہی کے کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ نے جو صراط المستقیم مقرر فرمایا ہے وہ زندوں کی راہ ہے، مردوں کی راہ نہیں۔پس جو چاہتا ہے کہ خدا کو پائے اور تی و قیوم خدا کو ملے ، تو وہ زندوں کو تلاش کرے کیونکہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے نہ مردہ ، جن کا خدا مردہ ہے، جن کی کتاب مردہ ، وہ مردوں سے برکت چاہیں تو کیا تعجب ہے لیکن اگر سچا مسلمان جس کا خدا زندہ خدا، جس کا نبی زندہ نبی ، جس کی کتاب زندہ کتاب ہے اور جس دین میں ہمیشہ زندوں کا سلسلہ جاری ہو اور ہر زمانہ میں ایک زندہ انسان خدا تعالیٰ کی ہستی پر زندہ ایمان پیدا کرنے والا آتا ہو۔وہ اگر اس زندہ کو چھوڑ کر بوسیدہ ہڈیوں اور قبروں کی تلاش میں سرگرداں ہو تو البتہ تعجب اور حیرت کی بات ہے!! قبرستان میں جا کر منتیں مانگنا سوال: - قبرستان میں جانا جائز ہے یا نا جائز ؟ الحكم 24 جولائی 1902 صفحہ 10، 11 ) جواب : نذرونیاز کے لیے قبروں پر جانا اور وہاں جا کر منتیں مانگنا درست نہیں ہے ہاں وہاں جا کر عبرت سیکھے اور اپنی موت کو یاد کرے تو جائز ہے۔“ میت کو گاڑی پر قبرستان لے جانا فرمایا: (الحام 31 مئی 1903 ، صفحہ 9 حاشیہ) جوخدانخواستہ اس بیماری ( یعنی طاعون۔ناقل ) سے مرجائے وہ شہید ہے۔اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا کفن پہنانے کی ضرورت ہے۔اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو ایک سفید چادر اس پر ڈال دو اور چونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہریلا اثر زیادہ