فقہ المسیح — Page 176
فقه المسيح 176 نماز جنازہ اور تدفین تھی ، دو گاڑیاں اور آگئیں۔ہم سب حضرت صاحب کے خاندان کے ساتھ گاڑیوں میں بھر کر چلے گئے۔پہلے حضرت میر ناصر نواب صاحب کے والد کے مزار پر تشریف لے گئے اور بہت دیر تک دعا فرمائی اور آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہے۔اس کے بعد آپ حضرت نظام الدین اولیاء کے مقبرہ پر تشریف لے گئے۔آپ نے تمام مقبرہ کو خوب اچھی طرح سے دیکھا۔پھر مقبرہ کے مجاوروں نے حضور سے پوچھا۔آپ حضرت نظام الدین صاحب کو کیا خیال فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہم انہیں بزرگ آدمی خیال کرتے ہیں۔“ پھر آپ نے مقبرہ کے مجاوروں کو کچھ رقم بھی دی جو مجھے یاد نہیں کتنی تھی۔پھر آپ مع مجاوروں کے قطب صاحب تشریف لے گئے۔وہاں کے مجاوروں نے آپ کو بڑی عزت سے گاڑی سے اتارا اور مقبرہ کے اندر لے گئے کیونکہ مقبرہ نظام الدین اولیاء میں تو عورتیں اندر چلی جاتی ہیں لیکن قطب صاحب میں عورتوں کو اندر نہیں جانے دیتے۔ان لوگوں نے حضور کو کھانے کے لئے کہا۔66 حضور نے فرمایا ”ہم پر ہیزی کھانا کھاتے ہیں۔آپ کی مہربانی ہے۔وہاں کے مجاوروں کو بھی حضور نے کچھ دیا۔پھر حضور علیہ السلام وہاں سے شام کو واپس گھر تشریف لے آئے۔مجاور کچھ راستہ تک ساتھ آئے۔مردہ سے مدد مانگنا جائز نہیں فرمایا: (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 200،199) مردوں سے مدد مانگنے کا خدا نے کہیں ذکر نہیں کیا بلکہ زندوں ہی کا ذکر فرمایا۔خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا جو اسلام کو زندوں کے سپرد کیا۔اگر اسلام کو مر دوں پر ڈالتا تو نہیں معلوم کیا آفت آتی۔مردوں کی قبریں کہاں کم ہیں۔کیا ملتان میں تھوڑی قبریں ہیں گر دوگر ما گداو گورستان“ اس کی نسبت مشہور ہے۔میں بھی ایک بار ملتان گیا۔جہاں کسی قبر پر جاؤ مجاور کپڑے اتارنے کو گرد ہو جاتے ہیں۔پاک پیٹن میں مردوں کے فیضان سے دیکھ لو کیا ہورہا ہے؟ اجمیر میں جا کر