فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 611

فقہ المسیح — Page 175

فقه المسيح 175 نماز جنازہ اور تدفین چہلم کی حکمت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ یہ ذکر تھا کہ یہ جو چہلم کی رسم ہے یعنی مُردے کے مرنے سے چالیسویں دن کھانا کھلا کر تقسیم کرتے ہیں غیر مقلد اس کے بہت مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کھانا کھلانا ہو تو کسی اور دن کھلا دیا جائے۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ چالیسویں دن غربا میں کھانا تقسیم کرنے میں یہ حکمت ہے کہ یہ مردے کی روح کے رخصت ہونے کا دن ہے۔پس جس طرح لڑکی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ دیا جاتا ہے اسی طرح مردے کی روح کی رخصت پر بھی غرباء میں کھانا دیا جاتا ہے تا اسے اس کا ثواب پہنچے۔گویا روح کا تعلق اس دنیا سے پورے طور پر چالیس دن میں قطع ہوتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ صرف حضرت صاحب نے اس رسم کی حکمت بیان کی تھی ورنہ آپ خود ایسی رسوم کے پابند نہ تھے۔مزاروں کی زیارت (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 167 168) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ محتر مہ کنیز فاطمہ صاحبہ اہلیہ میر قاسم علی صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب 1905ء میں دہلی میں تھے اور وہاں جمعہ کو میری بھی بیعت لی۔اور دعا فرمائی۔باہر دشمنوں کا بھاری ہجوم تھا۔میں بار بار آپ کے چہرے کی طرف دیکھتی تھی کہ باہر اس قدرشور ہے اور حضرت صاحب ایک شیر کی طرح بیٹھے ہیں۔آپ نے فرمایا ' شیخ یعقوب علی صاحب کو بلا لا ؤ۔گاڑی لائیں۔میر صاحب نے کہا حضور گاڑی کیا کرنی ہے؟ آپ نے فرمایا ” قطب صاحب جانا ہے۔میں نے کہا حضور اس قدر خلقت ہے۔آپ ان میں سے کیسے گزریں گے؟ آپ نے فرمایا دیکھ لینا میں ان میں سے نکل جاؤں گا۔میر صاحب کی اپنی فٹن بھی 66