فقہ المسیح — Page 174
فقه المسيح 174 نماز جنازہ اور تدفین حضرت مسیح ناصری" کا جنازہ ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب رعیہ نے عرض کی کہ ایک شخص منشی رحیم بخش عرضی نو لیس بڑا سخت مخالف تھا مگر اب تحفہ گولڑویہ پڑھ کر اس نے مسیح کی موت کا تو اعتراف کر لیا ہے اور یہ بھی مجھ سے کہا کہ مسیح کا جنازہ پڑھیں؟ میں نے تو یہی کہا کہ بعد استصواب واستمزاج حضرت اقدس جواب دوں گا۔فرمایا :۔وو ” جنازہ میت کے لئے دعا ہی ہے کچھ حرج نہیں۔وہ پڑھ لیں۔“ خاندانی قبرستان میں دعا (الحکم 10 نومبر 1902 صفحہ 7) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب ایک دفعہ غیر معمولی طور پر غرب کی طرف سیر کو گئے تو راستے سے ہٹ کر عید گاہ والے قبرستان میں تشریف لے گئے اور پھر آپ نے قبرستان کے جنوب کی طرف کھڑے ہو کر دیر تک دعا فرمائی۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا آپ نے کوئی خاص قبر سامنے رکھی تھی ؟ مولوی صاحب نے کہا میں نے ایسا نہیں خیال کیا اور میں نے اس وقت دل میں یہ سمجھا تھا کہ چونکہ اس قبرستان میں حضرت صاحب کے رشتہ داروں کی قبریں ہیں اس لئے حضرت صاحب نے دعا کی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ وہاں ایک دفعہ حضرت صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ کی قبر پر دعا کی تھی۔مولوی صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کی لڑکی امتہ النصیر فوت ہوئی تو حضرت صاحب اسے اسی قبرستان میں دفنانے کے لئے لے گئے تھے اور آپ خود اسے اٹھا کر قبر کے پاس لے گئے۔کسی نے آگے بڑھ کر حضور سے لڑکی کو لینا چاہا مگر آپ نے فرمایا کہ میں خود لے جاؤں گا اور حافظ روشن علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضرت صاحب نے وہاں اپنے کسی بزرگ کی قبر بھی دکھائی تھی۔سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 204،203)