فقہ المسیح — Page 152
فقه المسيح 152 حضرت مسیح موعود کا طریق نماز سوائے شاذ کے حضور خود نہ پڑھاتے تھے۔نماز جنازہ عموماً حضور خود پڑھاتے تھے۔اور حضور کو میں نے نماز جنازہ کسی کے پیچھے پڑھتے نہیں دیکھا یا کم از کم میری یاد میں نہیں۔روایت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اصحاب احمد جلد 9 صفحہ 155 ، 156 نیا ایڈیشن) حضرت مسیح موعود کی نماز کا تفصیلی نقشہ حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب رسالہ تعلیم الاسلام میں حضرت مسیح موعود کی نماز کی ادائیگی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: یہاں پر میں اس قدر بیان کروں گا کہ خدا کا برگزیدہ اس عبادت کو اس طریق پر ادا کرتا ہے تا کہ یہ طریق عقل مندوں کے نزدیک اثبات کے لئے کافی اور رفع نزاع کے لئے وافی ہو اور بجائے اس کے کہ میں ہر ایک مسئلہ کے ساتھ یہ لکھوں کہ حضرت اقدس کا یہی معمول بھا ہے۔ابتدا ہی میں میں یہ بتا دیتا ہوں کہ صلوۃ کی جو کیفیت میں یہاں پر لکھوں گا وہ حضرت اقدس کے عمل کے مطابق ہوگی۔اور وہ یہ ہے کہ جب صلوۃ پڑھتے ہیں تو کعبہ کی طرف رخ کر کے اللہ اکبر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اوپر اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ انگلیاں دونوں کانوں کے برابر ہو جاتی ہیں اور پھر دونوں کو نیچے لا کر سینہ یعنی دونوں پستانوں کے اوپر یا ان کے متصل نیچے اس طور پر باندھ دیتے ہیں کہ بایاں ہاتھ نیچے اور دایاں اوپر ہوتا ہے اور عموما ایسا ہوتا ہے کہ داہنے ہاتھ کی تینوں درمیانی انگلیوں کے سرے بائیں کہنی تک یا اس سے کچھ پیچھے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں اور انگو ٹھے اور کنارے کی انگلی سے پکڑا ہوتا ہے اور اگر اس کے خلاف او پر یا نیچے یا آگے بڑھا کر یا پیچھے ہٹا کر یا ساری انگلیوں سے کوئی پکڑ کر ہاتھ باندھتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔