فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 611

فقہ المسیح — Page 151

فقه المسيح 151 حضرت مسیح موعود کا طریق نماز کرتے تھے۔دوسنت ادا فرماتے تھے جو ہلکی ہوتی تھیں مگر سنوار کر پڑھی جاتی تھیں۔کوئی جلدی یا تیزی ان میں نہ ہوتی تھی۔بلکہ ایک اطمینان ہوتا تھا مگر وہ زیادہ لمبی نماز نہ ہوتی تھی۔ان کے علاوہ بھی کبھی کبھار حضور کو مسجد مبارک میں سنت ادا کرتے دیکھا مگر ہمیشہ حضور کی نما ز آسان اور ہلکی ہوا کرتی تھی۔چند مرتبہ حضور کی اقتداء میں نماز باجماعت ادا کرنے کا شرف ملا ہے اور اس کے لئے ابتدائی زمانہ میں ہی ہمیں خاص اہتمام کی ضرورت پڑا کرتی تھی اور ہم میں سے اکثر کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ حضور کے ساتھ مل کر کھڑے ہونے کی جگہ حاصل کریں۔حضور کو میں نے نماز میں کبھی بھی رفع یدین کرتے نہیں دیکھا۔اور نہ ہی آمین بالجبر کرتے سنا۔تشہد میں حضور شہادت کی انگلی سے اشارہ ضرور کیا کرتے تھے مگر میں نے کبھی نہ دیکھا کہ حضور نے انگلی کو اکٹڑا یا یا پھرایا ہو۔صرف ہلکا سا اشارہ ہوتا تھا جو عموما ایک ہی مرتبہ اور بعض اوقات دو مرتبہ بھی ہوتا تھا۔جو میرے خیال میں امام کے تشہد کو لمبا کرنے کی وجہ سے حضور کلمہ شہادت دوہراتے ہوئے کیا کرتے ہوں گے۔حضور نماز میں ہاتھ ہمیشہ سینہ پر باندھتے تھے۔زیر ناف بلکہ ناف پر بھی میں نے کبھی حضور کو ہاتھ باندھے نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔حضور پُر نور خود امام نہ بنا کرتے تھے بلکہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور کو حضور نے نمازوں کی امامت کا منصب عطا فرمایا ہوا تھا۔نماز جمعہ بھی حضور خود نہ پڑھاتے تھے بلکہ عموما مولوی صاحب موصوف ہی پڑھایا کرتے تھے اور شاذ و نادر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ پڑھایا کرتے تھے اور کبھی کبھی مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی بھی پڑھاتے تھے۔ایک زمانہ میں دو جگہ جمعہ کی نماز ہوتی تھی۔مسجد اقصیٰ میں بھی جو کہ جامع مسجد ہے اور مسجد مبارک میں بھی۔مگر دونوں جگہ امام الصلوۃ حضور نہ ہوتے تھے۔عیدین کی نماز بھی