فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 611

فقہ المسیح — Page 146

فقه المسيح 146 قصر نماز رکعت ادا کرتی ، لیکن ڈاکٹر صاحب باقی کی دو رکعت بعد از جماعت ادا کر لیتے۔ایک دفعہ حضرت اقدس نے دیکھ کر کہ ڈاکٹر صاحب نے ابھی دور کعت ادا کرنی ہے۔فرمایا کہ:۔ٹھہر جاؤ۔ڈاکٹر صاحب دو رکعت ادا کر لیویں۔“ پھر اس کے بعد جماعت دوسری نماز کی ہوئی۔ایسی حالتِ جمع میں سنت اور نوافل نہیں ادا کئے جاتے۔سفر میں قصر کی حد (البدر یکم اگست 1904 ء صفحہ 4) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر ذکر کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قصر نماز کے متعلق سوال کیا۔حضور نے فرمایا۔جس کو تم پنجابی میں وانڈھا کہتے ہو۔بس اس میں قصر ہونا چاہئے۔میں نے عرض کیا کہ کیا کوئی میلوں کی بھی شرط ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔بس جس کو تم وانڈھا کہتے ہو وہی سفر ہے جس میں قصر جائز ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں سیکھواں سے قادیان آتا ہوں۔کیا اس وقت نماز قصر کر سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔بلکہ میرے نزدیک اگر ایک عورت قادیان سے نگل جائے تو وہ بھی قصر کرسکتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیکھواں قادیان سے غالبا چار میل کے فاصلہ پر ہے اور منگل تو شاید ایک میل سے بھی کم ہے۔منگل کے متعلق جو حضور نے قصر کی اجازت فرمائی ہے۔اس سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان سفر کے ارادہ سے قادیان سے نکلے تو خواہ ابھی منگل تک ہی گیا ہو اس کے لئے قصر جائز ہو جائے گا۔یہ مراد نہیں ہے کہ کسی کام کے لئے صرف منگل تک آنے جانے میں قصر جائز ہو جاتا ہے۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ منگل تک آنے جانے کو صرف عورت کے لئے سفر قرار دیا ہو کیونکہ عورت کمزور جنس ہے۔واللہ اعلم۔) سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 552،551)