فقہ المسیح — Page 144
فقه المسيح 144 قصر نماز حضور نے منظور فرمائی۔بعد ازاں جناب خواجہ کمال الدین صاحب جناب ڈپٹی کمشنر کے پاس اجازت لینے کے لئے اور دعوت شرکت دینے کے لئے گئے تو صاحب بہادر نے اجازت تو دے دی مگر کہا کہ فلاں وجہ سے میں اس اتوار کو شامل نہیں ہو سکتا اور اگر آئندہ اتوار کو ہوتا تو میں خود بھی اور سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی ضرور شامل ہوتے۔تو خواجہ صاحب نے حضور کی خدمت میں صاحب بہادر کے جواب اور خواہش شرکت کا ذکر کیا تو حضور نے فرمایا تاریخ مقدمہ دور ہے، لہذا ہم ٹھہر سکتے ہیں۔تو اس لحاظ سے حضور کو دس دن قیام کرنا پڑا۔جس وقت حضور نے ٹھہرنے کا فیصلہ فرمایا اس وقت حضور کی طبیعت علیل تھی اندر ہی سے اس فیصلہ کی اطلاع دے دی تھی اور باہر تشریف نہیں لائے۔اس کے بعد ظہر کی اذان ہوئی تو حضور نے کہلا بھیجا کہ نماز میں نہیں آسکتا، نماز پڑھ لو۔چنانچہ اقامت ہوئی اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی اقتداء میں دورکعتوں کے بعد کے قعدہ میں عَبدُهُ وَرَسُولُهُ تک پڑھ چکے تو صف میں سے کسی نے سبحان اللہ کہا یعنی پوری نماز پڑھو اور ایک اور سلام پھیرنے کے بعد حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو کہا میاں جا کر اپنے ابا جی سے دریافت کریں کہ یہاں پر اگلے اتوار تک ٹھہرنے کے فیصلہ کے بعد ہمیں نماز پوری پڑھنی چاہئے یا کہ دوگانه؟ چنانچہ گئے اور واپس آکر فرمایا ابا جی کہتے ہیں کہ دو رکعت ہی پڑھیں ، ہم نے کوئی پندرہ دن ٹھہرنے کا کوئی ارادہ نہیں کیا۔چنانچہ اسی وقت عصر کی نماز جمع کرتے ہوئے دو رکعت نماز پڑھی گئی۔حضرت مسیح موعود کے اس فیصلہ کے بعد سلسلہ احمدیہ میں یہی فتویٰ قائم ہو گیا کہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ کے قیام کے ارادہ سے مسافر مقیم ہو جاتا ہے اور اس سے کم ارادہ کے قیام سے مسافر ہی رہتا ہے۔دستخط حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب مفتی سلسلہ فتوی نمبر 1937-12-55/2 منقول از رجسٹر فتاوی دار الافتاء ربوه) ملازمت پیشہ دوران سفر قصر نہ کرے ایک شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو شخص بسبب ملازمت کے