فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 611

فقہ المسیح — Page 143

فقه المسيح 143 حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب مفتی سلسلہ سے پوچھا تھا۔) قصر نماز سوال:۔سفر کے متعلق جناب حافظ صاحب مرحوم نے (حضرت حافظ روشن علی صاحب مراد ہیں۔ناقل ) 14 دن قیام تک قصر کرنے کا فتویٰ دیا ہے۔اور حضرت اقدس حضرت مسیح موعود علیہ السلام وخلیفہ اول سے مروی ہے کہ صرف تین دن کے واسطے قصر ہے۔چار دن کے قصد سے مسافر مقیم ہو جاتا ہے۔حافظ صاحب ہمارے مفتی تھے ان کے قول کا رڈ ہم نے نہیں پڑھا۔ہم کس پر عمل کریں۔بعض کا قول ہے مفتی کا قول تو ڑا نہیں جاسکتا ، یہ تو فتویٰ ہے۔فرمان تو فتویٰ کے مطابق ہی ہو گا مگر نبی اور خلیفہ سے اختلاف کرتے ہوئے کیا حجت رکھتے ہیں۔ہم بہر حال نظام کے پابند ہیں۔مگر اس اختلاف کا کیا ازالہ ہے۔اگر ہم سے کوئی پوچھے ہم تو مجبور ہیں۔اس سوال کے جواب میں حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب نے مندرجہ ذیل فتویٰ دیا۔جواب:۔جس طرح خلیفہ کے فیصلہ اور مفتی کے فتویٰ میں اختلاف ہو جائے تو خلیفہ کے فیصلہ پر عمل ہونا چاہئے کیونکہ در حقیقت اصل مفتی خلیفہ وقت ہی ہوتا ہے اور مفتی اس کا مقرر کردہ مفتی اور افتاء میں اس کا نائب ہوتا ہے۔اسی طرح خلیفہ اور بانی سلسلہ میں اگر لاعلمی کی وجہ سے اختلاف ہو جائے تو ترجیح بانی سلسلہ کے قول کو دی جاتی ہے۔کیونکہ اصل وہی ہے اور خلیفہ اس کا نائب اور نائب اصل کا تابع نہ متبوع اور نہ مساوی۔حضرت خلیفہ اسیح اول احمدیت سے پہلے اہلحدیث گروہوں میں شامل تھے اور اہلحدیث کا یہ مذہب ہے کہ تین دن کے ارادہ اقامت سے مسافر مقیم ہو جاتا ہے۔اس لئے آپ کا احمدی ہونے کے بعد بھی یہی فتویٰ تھا لیکن جن دنوں میں سیدنا حضرت مسیح موعود کا لیکچر لاہور میں ہوا تھا۔ان دنوں میں حضور کرم دین والے مقدمہ کی وجہ سے گورداسپور میں رہتے تھے اور محض تبدیلی آب و ہوا کے لئے لاہور تشریف لے گئے اور مسافر ہونے کی وجہ سے عموما نمازیں جمع کی جاتی تھیں اور قصر کی جاتی تھیں۔غالباً تیسرے دن لاہور کی جماعت نے حضور سے لیکچر کی درخواست کی اور