فقہ المسیح — Page 140
فقه المسيح سفر کی تعریف 140 قصر نماز قصر نماز ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ مجھے دس پندرہ کوس تک ادھر اُدھر جانا پڑتا ہے۔میں کس کو سفر سمجھوں اور نمازوں میں قصر کے متعلق کس بات پر عمل کروں۔حضرت اقدس نے فرمایا:۔میرا مذ ہب یہ ہے کہ انسان بہت وقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں، خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو۔اس میں قصر و سفر کے مسائل پر عمل کرے إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں ،مگر کسی کے دل میں خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھری اُٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔شریعت کی بنا دقت پر نہیں ہے۔جس کو تم عرف میں سفر سمجھو، وہی سفر ہے۔۔سفر کی حد کیا ہے؟ الحلم 17 فروری 1901 صفحہ 13 ) سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی تین کوس سفر پر جائے تو کیا نمازوں کو قصر کرے؟ فرمایا:۔ہاں، دیکھو اپنی نیت کو خوب دیکھ لو۔ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہئے۔اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کا روبار یا سفر کے لئے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اس کام کے لئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلا تا ہو۔دیکھو۔یوں تو ہم ہر روز سیر کے لئے دو دو میل نکل جاتے ہیں مگر یہ سفر نہیں۔ایسے موقعہ پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہئے کہ اگر وہ بغیر کسی خلجان کے