فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 611

فقہ المسیح — Page 134

فقه المسيح 134 نماز استخاره میں اس کے متعلق انشراح اور انبساط پیدا ہو جاتا ہے۔عموما استخارہ رات کے وقت بعد نماز عشاء کیا جاتا ہے۔دو رکعت نماز نفل پڑھ کر التحیات میں درود شریف اور دیگر مسنون دعاؤں کے بعد دعائے استخارہ پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد فورا سو رہنا چاہئے اور باتوں میں مشغول ہونا مناسب نہیں ہوتا لیکن حسب ضرورت دوسرے وقت بھی استخارہ کیا جا سکتا ہے۔(سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 508-509) نماز عصر میں استخارہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دورانِ ایام مقدمہ کرم دین میں ایک صاحب ابوسعید نامی کو جو ابوسعید عرب کے نام سے مشہور تھے۔لاہور سے بعض اخباروں کے پرچے لانے کے واسطے بھیجا گیا۔انہیں کہا گیا کہ آپ سفر سے قبل استخارہ کر لیں۔اس وقت نما ز عصر ہونے والی تھی اور بیت مبارک میں احباب جمع تھے۔وہاں ہی ان کے سفر کے متعلق تجویز قرار پائی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ابو سعید صاحب سے فرمایا کہ آپ نماز عصر میں ہی استخارہ کر لیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔اور پھر لا ہور چلے گئے اور جس مقصد کے واسطے بھیجے گئے۔اس میں کامیاب ہو کر واپس آئے۔) سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 509) استخارہ میں کونسی سورتیں پڑھیں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شخص کو استخارہ کا یہ طریق بھی بتلایا کہ پہلی رکعت میں سورۃ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ پڑھیں۔دوسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللهُ اور التَّحِيَّات میں اپنے مطلب کے واسطے دعا کریں۔(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 231)