فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 611

فقہ المسیح — Page 130

فقه المسيح سے قریب جگہ ہے۔130 سخت تنگی کے وقت نمازیں جمع کرنا نمازیں جمع کرنا (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 34 ،35) ایک صاحب نے ذکر کیا کہ ان کا ایک افسر سخت مزاج تھا روانگی نماز میں اکثر چیں بجبیں ہوا کرتا تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ضرورتوں کے وقت جمع صلوتین رکھا ہے ظہر اور عصر کی نمازیں ایسی حالت میں جمع کر کے پڑھ لیں۔البدر 9 جنوری 1903 صفحہ 82) غزوہ خندق کے موقع پر کتنی نمازیں جمع کی گئیں؟ مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :۔آپ کا یہ شیطانی وسوسہ کہ خندق کھودتے وقت چاروں نمازیں قضا کی گئیں۔اوّل آپ لوگوں کی علمیت تو یہ ہے کہ قضا کا لفظ استعمال کیا ہے۔اے نادان! قضا نماز ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ترک نماز کا نام قضا ہر گز نہیں ہوتا۔اگر کسی کی نماز ترک ہو جاوے تو اس کا نام فوت ہے۔اسی لئے ہم نے پانچ ہزار روپے کا اشتہار دیا تھا کہ ایسے بیوقوف بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جن کو ابھی قضا کے معنی بھی معلوم نہیں۔جو شخص لفظوں کو بھی اپنے محل پر استعمال نہیں کر سکتا۔وہ نادان کب یہ لیاقت رکھتا ہے کہ امور دقیقہ پر نکتہ چینی کر سکے۔باقی رہا یہ کہ خندق کھود نے کے وقت چار نمازیں جمع کی گئیں۔اس احمقانہ وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین میں حرج نہیں ہے یعنی ایسی سختی نہیں جو انسان کی تباہی کا موجب ہو۔اس لئے اس نے ضرورتوں کے وقت اور بلاؤں کی حالت میں نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کا حکم دیا ہے۔مگر اس مقام میں ہماری کسی معتبر حدیث میں چار (نمازیں) جمع کرنے کا ذکر نہیں بلکہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوٰۃ العصر معمول سے تنگ وقت