فقہ المسیح — Page 117
فقه المسيح 117 متفرق مسائل نماز جلدی پڑھ لیتے ہیں اور جب سلام پھیر چکتے ہیں تو لمبی لمبی دعائیں بڑی تضرع سے مانگتے ہیں۔حالانکہ نماز کے اندر دعا چاہئے۔نماز خود دعا ہے ،نماز اس لئے ہے کہ بندہ اس میں اپنے رب سے دین دنیا کے حسنات طلب کرے اس کی مثال یہ ہے کہ جب بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے تو اپنی کوئی حاجت پیش نہ کی اور جب دربار سے رخصت ہوکر باہر آئے تو درخواست کرنی شروع کر دی۔یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز پنجگانہ کی جماعت کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا کیا کرتے تھے۔حضور علیہ السلام کی اس تقریر سے پہلے برابر پانچ وقت کی جماعت کے بعد بالالتزام ہاتھ اُٹھا کر دعا کی جاتی تھی۔امام نماز حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ، حضرت اقدس ، سب مقتدی نماز فرض کا سلام پھیر کر ہاتھ اُٹھا کر دعا کیا کرتے تھے۔مجھے اس طریق پر سب کا مل کر ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنا یاد ہے۔کیونکہ میں بھی سب کے ساتھ ہاتھ اُٹھا کر دعا کیا کرتا تھا۔اس تمام تقریر میں حضرت اقدس نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو اس بات کا اشارہ تک بھی نہیں کیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں یا آئندہ ایسا نہ کیا کریں۔لیکن حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے جس وقت حضور کی یہ تقریر سنی اس کے بعد نماز کے سلام کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنی چھوڑ دی۔اور اس وقت سے یہی طریق جاری ہے۔افتخار الحق از حضرت صاحبزادہ افتخار احمد صاحب لدھیانوی صفحہ 495،494) نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا بدعت ہے مسئلہ پوچھا گیا کہ ہم لوگ عموماً بعد نماز دعا مانگتے ہیں لیکن یہاں نوافل تو خیر دعا بعد نماز نہیں مانگتے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا: اصل یہ ہے کہ ہم دعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دعا مانگتے ہیں اور صلوٰۃ بجائے خود دعا ہی ہے۔بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ ہندوستان