فقہ المسیح — Page 118
فقه المسيح 118 متفرق مسائل نماز میں یہ عام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔اس لیے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے، جس میں کراہت پائی جاتی ہے حالانکہ نماز ایسی شے ہے کہ جس سے ایک ذوق ، انس اور سرور بڑھتا ہے مگر جس طرز پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے لطفی پیدا ہوتی ہے۔میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں بلکہ حضورِ قلب کی کوشش کریں جس سے اُن کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔عام طور پر یہ حالت ہو رہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کے لیے کرتے ہیں اور دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں حالانکہ نماز کا ( جو مومن کی معراج ہے ) مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے اور اسی لیے اُمُّ الْاَدْعِيَه، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دعا مانگی جاتی ہے۔انسان کبھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتا جب تک کہ اقام الصلوٰۃ نہ کرے۔اقِیمُوا الصَّلوةَ اس لیے فرمایا کہ نماز گری پڑتی ہے مگر جو شخص اقام الصلوۃ کرتے ہیں۔تو وہ اس کی روحانی صورت سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو پھر وہ دعا کی محویت میں ہو جاتے ہیں۔نماز ایک ایسا شربت ہے کہ جو ایک بارا سے پی لے اُسے فرصت ہی نہیں ہوتی۔اور وہ فارغ ہی نہیں ہوسکتا۔ہمیشہ اس سے سرشار اور مست رہتا ہے۔اس سے ایسی محویت ہوتی ہے کہ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اسے چکھتا ہے تو پھر اس کا اثر نہیں جاتا۔مومن کو بے شک اٹھتے بیٹھتے ہر وقت دعائیں کرنی چاہئیں مگر نماز کے بعد جو دعاؤں کا طریق اس ملک میں جاری ہے وہ عجیب ہے۔بعض مساجد میں اتنی لمبی دعائیں کی جاتی ہیں کہ آدھ میل کا سفر ایک آدمی کر سکتا ہے۔میں نے اپنی جماعت کو بہت نصیحت کی ہے کہ