فقہ المسیح — Page 116
فقه المسيح 116 متفرق مسائل نماز ایک اور موقعہ پر سوال ہوا کہ نماز کے بعد دُعا کرنی یہ سُنتِ اسلام آئی ہے یا نہیں ؟ فرمایا:۔ہم انکار نہیں کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا مانگی ہوگی مگر ساری نماز دعا ہی ہے اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نماز کو جلدی جلدی ادا کر کے گلے سے اُتارتے ہیں۔پھر دُعاؤں میں اس کے بعد اس قدر خشوع و خضوع کرتے ہیں کہ جس کی حد نہیں اور اتنی دیر تک دُعا مانگتے رہتے ہیں کہ مسافر دو میل تک نکل جاوے۔بعض لوگ اس سے تنگ بھی آجاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔خشوع خضوع اصل جز و تو نماز کی ہے۔وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دُعا مانگتے ہیں۔اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔انسان نماز کے اندر ہی ماثورہ دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں دُعا مانگ سکتا ہے۔(البدر یکم مئی 1903 ، صفحہ 114) نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا کروانا چھوڑ دیا ย حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک کے شروع میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا کراتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ہاتھ اُٹھا کر دعا کر لیا کرتے تھے۔لیکن بعد میں آپ نے نہایت نرمی کے ساتھ یہ مسئلہ سمجھا دیا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔اس حوالے سے حضرت پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی کی مندرجہ ذیل روایت قابلِ غور ہے۔وہ لکھتے ہیں :۔خدا کی مہربانی سے مجھے وہ وقت یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے ہم خدام بیٹھے ہوئے تھے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی تھے جبکہ حضور نے نماز کے اندر دعا کرنے کے متعلق تقریر فرمائی۔جس کا مطلب میری عبارت میں یہ ہے کہ یہ رسم پڑگئی ہے کہ نماز کے اندر دعا نہیں کرتے۔نماز کو بطور رسم و عادت جلدی