فقہ المسیح — Page 110
فقه المسيح 110 متفرق مسائل نماز مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کومیں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت ام المومنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اُسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔میں نے حضرت ام المومنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آجایا کرتا ہے۔اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 636 ،637) امام کا جھرا بسم اللہ پڑھنا اور قنوت کرنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اکثر طور پر امام صلوۃ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ہوتے تھے اور وہ بالجبر نمازوں میں بسم اللہ بالجبر پڑھتے اور قنوت بھی کرتے تھے اور حضرت احمد علیہ السلام ان کی اقتداء میں ہوتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے مسائل میں حضرت صاحب کسی سے تعرض نہیں فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ سب طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں مگر خود آپ کا اپنا طریق وہ تھا جس کے متعلق آپ سمجھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکثر اختیار کیا ہے۔نمازوں میں قنوت کی دعائیں ( سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 735) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب تک مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم زندہ