فقہ المسیح — Page 103
فقه المسيح 103 متفرق مسائل نماز آتا۔پس یا درکھو کہ 33 مرتبہ والی بات حسب مراتب ہے، ورنہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو سچے ذوق اور لذت سے یاد کرتا ہے، اسے شمار سے کیا کام۔وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا۔ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی۔اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لیے ہوئے پھیر رہا ہے۔اس عورت نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں اپنے یار کو یاد کرتا ہوں۔عورت نے کہا یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کر؟ در حقیقت یہ بات بالکل سچی ہے کہ یار کو یاد کرنا ہوتو پھر گن گن کر کیا یا دکرنا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الہی کثرت سے نہ ہو وہ لذت اور ذوق جو اس ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو 33 مرتبہ فرمایا ہے وہ آئی اور شخصی بات ہوگی۔کوئی شخص ذکر نہ کرتا ہوگا تو آپ نے اسے فرما دیا کہ 33 مرتبہ کر لیا کر۔اور یہ جو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں یہ مسئلہ بالکل غلط ہے۔اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے آشنا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے کبھی ایسی باتوں کا التزام نہیں کیا۔وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا تھے۔غیر معمولی اوقات والے علاقوں میں نماز کیسے پڑھیں؟ مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتا لوی لکھتے ہیں کہ (الحكم 24 جون 1904 ، صفحہ 1) قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے سنایا کہ سردار فضل حق صاحب ساکن دھرم کوٹ کے اسلام لانے کا واقعہ ہمارے سامنے ہوا تھا۔جب سردار صاحب عید کے دن قادیان آکر مسلمان ہوئے اور اس کے بعد کچھ دن قادیان ٹھہرے تھے۔ان کے دیگر رشتہ دار اس عرصہ میں چڑھائی کر کے آئے اور ان کو اسلام سے ہٹا کر واپس سکھ مت میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔چنانچہ ایک دن ایک جتھ سکھوں کا آیا۔جس میں بوڑھے بوڑھے اور اپنے مذہب کے واقف لوگ بھی تھے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک