فقہ المسیح — Page 102
فقه المسيح 102 متفرق مسائل نماز ہوا۔پس یا درکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے۔لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ (النور: 38) جب دل خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے، کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔اسی طرح پر جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں۔وہ کسی حال میں بھی (الحکم 24 جون 1904 صفحہ 1) خدا تعالیٰ کو فراموش نہیں کرتے۔نماز کے بعد تشبیح ایک صاحب نے پوچھا کہ بعد نماز تسبیح لے کر 33 مرتبہ اللہ اکبر وغیرہ جو پڑھا جاتا ہے۔آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ حسب مراتب ہوا کرتا تھا اور اسی حفظ مراتب نہ کرنے کی وجہ سے بعض لوگوں کو مشکلات پیش آئی ہیں اور انھوں نے اعتراض کر دیا ہے کہ فلاں دو احادیث میں باہم اختلاف ہے حالانکہ اختلاف نہیں ہوتا بلکہ وہ تعلیم بلحاظ مل اور موقعہ کے ہوتی تھی۔مثلاً ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ نیکی کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہے کہ اس میں یہ کمزوری ہے کہ ماں باپ کی عزت نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ ہے کہ تو ماں باپ کی عزت کر۔اب کوئی خوش فہم اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ بس اور تمام نیکیوں کو ترک کر دیا جاوے یہی نیکی ہے۔ایسا نہیں ، اسی طرح پر تسبیح کے متعلق بات ہے۔قرآن شریف میں تو آیا ہے۔وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرَ العَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الانفال:46) اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔اب یہ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا نماز کے بعد ہی ہے تو 33 مرتبہ تو کثیر کے اندر نہیں