فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 611

فقہ المسیح — Page 101

فقه المسيح 101 متفرق مسائل نماز کرتے ہیں۔ویسے ہی یہ بھی کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریق کو اختیار نہ کیا۔حالانکہ اگر آپ چاہتے تو کر سکتے تھے مگر آپ نے چھوٹی چھوٹی سورتوں پر اکتفا کی۔نماز اشراق پر مداومت ثابت نہیں (البدر 19 جون 1903 صفحہ 169) مکرم میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے نام مکتوب میں آپ تحریر فرماتے ہیں :۔اس عاجز نے پہلے لکھ دیا تھا کہ آپ اپنے تمام اور اد معمولہ کو بدستور لا زم اوقات رکھیں صرف ایسے طریقوں سے پر ہیز چاہئے۔جن میں کسی نوع کا شرک یا بدعت ہو۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اشراق پر مداومت ثابت نہیں تہجد کے فوت ہونے پر یا سفر سے واپس آکر پڑھنا ثابت ہے۔لیکن تعبد میں کوشش کرنا اور کریم کے دروازہ پر پڑے رہنا عین سنت ہے وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( الجمعة : 11) مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 528) تعداد رکعات پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعدا در کعت کیوں رکھی ہے؟ فرمایا: اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اسرار رکھے ہیں۔جو شخص نماز پڑھے گا۔وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا ہی۔اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے۔لیکن وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں۔جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے۔اس طریق پر وہ گناہوں سے بچار ہے گا۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک تاجر نے ستر ہزار کا سودا لیا اور ستر ہزار کا دیا مگر وہ ایک آن میں بھی خدا سے جدا نہیں