فقہ المسیح — Page 100
فقه المسيح 100 متفرق مسائل نماز وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کر سکے تو وہ اُٹھ کر استغفار ، درود شریف اور الحمد شریف ہی پڑھ لیا کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نوافل ادا کرتے ، آپ کثرت سے گیارہ رکعت پڑھتے آٹھ نفل اور تین وتر۔آپ کبھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے کہ دو رکعت پڑھ لیتے اور پھر سو جاتے اور پھر اُٹھتے اور دورکعت پڑھ لیتے اور سو جاتے۔غرض سو کر اور اُٹھ کر نوافل اسی طرح ادا کرتے جیسا کہ اب تعامل ہے اور جس کو اب چودھویں صدی گزر رہی ہے۔( البدر 16 نومبر 1903 ، صفحہ 335) تہجد کا اول وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ رمضان شریف میں تہجد پڑھنے کے متعلق حضور سے کسی نے سوال کیا یا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تہجد کے لئے اول وقت اُٹھنا چاہئے نہ کہ عین صبح کی نماز کے ذرا قبل۔۔۔۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اول وقت سے رات کا حصہ مراد نہیں بلکہ تہجد کے وقت کا اول حصہ مراد ہے یعنی نصف شب کے جلد بعد۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہ طریق ہوتا تھا کہ تجد ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ لمبی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو صبح کی اذان سے قبل کسی قدر استراحت کا موقعہ مل جاتا تھا لیکن نو جوان بچے اگر تہجد کی عادت ڈالنے کے لئے صبح کی اذان سے کچھ وقت پہلے بھی اُٹھ لیا کریں تو ہرج نہیں۔ایک رکعت میں قرآن ختم کرنا (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 671، 672) ذکر ہوا کہ ایک رکعت میں بعض لوگ قرآن کو ختم کرنا کمالات میں تصور کرتے ہیں اور ایسے حافظوں اور قاریوں کو اس امر کا بڑا فخر ہوتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔یہ گناہ ہے اور ان لوگوں کی لاف زنی ہے۔جیسے دنیا کے پیشہ والے اپنے پیشہ پر فخر