فقہ المسیح — Page 80
فقه المسيح فرمایا: 80 60 نماز با جماعت یہ سوال بے معنے ہے۔غسال ہونا کوئی گناہ نہیں۔امامت کے لائق وہ شخص ہے جو متقی ہو، نیکوکار، عالم باعمل ہو۔اگر ایسا ہے تو غسال ہونا کوئی عیب نہیں جو امامت سے روک سکے۔امامت کو بطور پیشہ اختیار کرنا جائز نہیں ( بدر 23 مئی 1907 صفحہ 10) وہ جو امامت کا منصب رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اگر اُن کا اقتدا کیا جائے تو نماز کے ادا ہو جانے میں مجھے شبہ ہے کیونکہ علانیہ طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے امامت کا ایک پیشہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ پانچ وقت جا کر نما ز نہیں پڑھتے بلکہ ایک دوکان ہے کہ ان وقتوں میں جا کر کھو لتے ہیں اور اسی دوکان پر اُن کا اور اُن کے عیال کا گزارہ ہے چنانچہ اس پیشہ کے عزل و نصب کی حالت میں مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے اور مولوی صاحبان امامت کی ڈگری کرانے کے لئے اپیل در اپیل کرتے پھرتے ہیں۔پس یہ امامت نہیں یہ تو حرام خوری کا ایک مکروہ فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 26 حاشیہ ) طریقہ ہے۔اجرت پر امام الصلوۃ مقرر کرنا ایک مخلص اور معزز خادم نے عرض کی کہ حضور میرے والد صاحب نے ایک مسجد بنائی تھی۔وہاں جو امام ہے اس کو کچھ معاوضہ وہ دیتے تھے ، اس غرض سے کہ مسجد آبادر ہے۔وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں میں نے اس کا معاوضہ بدستور رکھا ہے اب کیا کیا جاوے؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا: خواه احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کے لئے نماز پڑھتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔نماز تو خدا کے لئے ہے اگر وہ چلا جائے گا تو خدا تعالیٰ ایسے آدمی بھیج دے گا جو محض خدا کے لئے نماز پڑھیں اور مسجد کو آباد کر یں۔ایسا امام جو محض لالچ کی وجہ سے نماز