فقہ المسیح — Page 77
فقه المسيح 77 ارکان نماز حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا اور عرض کیا کہ اس بارہ میں جو حدیثیں ملتی ہیں وہ جرح سے خالی نہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب آپ تلاش کریں ضرور مل جائے گی کیونکہ باوجود اس کے کہ شروع عمر میں بھی ہمارے ارد گر دسب حنفی تھے مجھے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا کبھی پسند نہیں ہوا۔بلکہ ہمیشہ طبیعت کا میلان ناف سے او پر ہاتھ باندھنے کی طرف رہا ہے اور ہم نے بارہا تجربہ کیا ہے کہ جس بات کی طرف ہماری طبیعت کا میلان ہو وہ تلاش کرنے سے ضرور حدیث میں نکل آتی ہے۔خواہ ہم کو پہلے اُس کا علم نہ ہو۔پس آپ تلاش کریں ضرور مل جائے گی۔مولوی سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس پر حضرت مولوی صاحب گئے اور کوئی آدھا گھنٹہ بھی نہ گذرا تھا کہ خوش خوش ایک کتاب ہاتھ میں لئے آئے اور حضرت صاحب کو اطلاع دی کہ حضور حدیث مل گئی ہے اور حدیث بھی ایسی کہ جو علی شرط الشیخین ہے جس پر کوئی جرح نہیں۔پھر کہا کہ یہ حضور ہی کے ارشاد کی برکت ہے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 92) حضرت حاجی غلام احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ نماز میں ہاتھ کس جگہ باندھیں۔آپ نے فرمایا کہ ظاہری آداب بھی ضروری ہیں مگر زیادہ توجہ اللہ تعالی کی طرف نماز میں رکھنی چاہئے۔(اصحاب احمد جلد 10 صفحہ 246 نیا ایڈیشن) حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری روایت کرتے ہیں : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ میں نے نماز جمعہ سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے ہوئے دیکھا۔آپ کا رکوع، قیام ، قومہ، جلسہ درمیانہ تھا۔ہر ایک رکن میں اطمینان اور تسلی ہوتی تھی۔پھر میں نے ہاتھ باندھنے کی کیفیت دیکھی کہ سینے پر ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر تھا اور دائیں ہاتھ کے انگو ٹھے اور چھنگلی سے بازو پکڑا ہوا تھا اور تینوں درمیانی انگلیاں باز و پر تھیں اور کہنیوں کے جوڑ سے ورلی طرف ملی ہوئی تھیں۔( اصحاب احمد جلد 10 صفحہ 257 نیا ایڈیشن)