فقہ المسیح — Page 71
فقه المسيح 71 ارکان نماز سورۃ فاتحہ نہ آتی ہو مثلا نو مسلم ہے جس نے ابھی نماز نہیں سیکھی یا بچہ ہو جسے ابھی قرآن نہیں آتا تو اس کی نماز فقط تسبیح و تکبیر سے ہو جائے گی۔خواہ وہ قرآن کریم کا کوئی حصہ بھی نہ پڑھے۔( تفسیر کبیر جلد اول - تفسیر سورۃ فاتحه صفحه 7 تا9) سورۃ فاتحہ بھی نہ پڑھے۔حضرت منشی برکت علی صاحب شملوی روایت کرتے ہیں :۔ایک روز موسم گرما میں حضور چھت پر شاہ نشین پر رونق افروز تھے۔اس بات پر گفتگو شروع ہوگئی کہ امام کے پیچھے الحمد جائز ہے یا نہیں۔حضرت مولوی نورالدین صاحب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب مرحوم بھی مجلس میں موجود تھے۔مخالف و موافق آراء کا اظہار کیا جارہا تھا۔کوئی کہہ رہا تھا کہ ہر حالت میں الحمد کا پڑھنا ضروری ہے اور اگر امام اونچی آواز سے پڑھ رہا ہو تو مقتدی ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ پڑھتا رہے یا وقفہ میں پڑھ لے۔اور کوئی کہتا تھا کہ جب امام اونچی آواز سے پڑھ رہا ہو تو خاموش رہنا چاہئیے۔جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اس طرح کر لیا جائے کہ جب امام بلند آواز سے الحمد پڑھے تو مقتدی خاموشی سے سنتا ر ہے اور جب ظہر اور عصر کی نمازوں میں خاموشی سے پڑھے تو مقتدی بھی اپنے طور پر آہستہ پڑھ لے۔اس طرح دونوں باتوں پر عمل ہو جائے گا۔( اصحاب احمد جلد 3 صفحہ 190۔نیا ایڈیشن روایت حضرت منشی برکت علی صاحب شملوی) حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی روایت کرتے ہیں :۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم ایک دفعہ فرماتے تھے کہ ایک شخص سیالکوٹ یا اس کے گردونواح کا رہنے والا تھا اور ہر روز ہم اس کو امام کے پیچھے نماز میں الحمد پڑھنے کو کہتے تھے اور ہم اپنی دانست میں تمام دلیلیں اس بارہ میں دے چکے مگر اس نے نہیں مانا اور الحمد للہ امام کے پیچھے نہ پڑھی اور یوں نماز ہمارے ساتھ پڑھ لیتا ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں قادیان شریف آگیا ایک روز اسی قسم کی باتیں