فقہ المسیح — Page 58
فقه المسيح 58 وضو تو ایک طرف اگر ایمان ہی ہوتا، تو یہ حالت کیوں ہوتی اور یہاں تک نوبت کیوں پہنچتی۔وضو میں پاؤں دھونا ضروری ہے (الحلم 31 جنوری 1901 ء صفحہ 2) حضرت مسیح موعود اپنے ایک دوست کے نام مکتوب میں تحریر کرتے ہیں :۔وو ’ پاؤں کے مسح کی بابت یہ تحقیق ہے کہ آیت کی عبارت پر نظر ڈالنے سے نحوی قاعدہ کی رو سے دونوں طرح کے معنی نکلتے ہیں۔یعنی غسل کرنا اور مسح کرنا اور پھر ہم نے جب متواتر آثار نبویہ کی رو سے دیکھا تو ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پاؤں کو دھوتے تھے۔اس لئے وہ پہلے معنے غسل کرنا معتبر سمجھے گئے۔“ (مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 543) مضر صحت پانی کو استعمال نہ کریں اخبار بدر نے لکھا کہ قادیان کے اردگر دنشیب زمین میں بارش اور سیلاب کا پانی جمع ہوکر ایک جو ہر سا بن جاتا ہے جس کو یہاں ڈھاب کہتے ہیں۔جن ایام میں یہ نشیب زمین (ساری یا اس کا کچھ حصہ ) خشک ہوتی ہے تو گاؤں کے لوگ اس کو رفع حاجت کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس میں بہت سی نا پا کی جمع ہو جاتی ہے جو سیلاب کے پانی کے ساتھ مل جاتی ہے۔آج صبح حضرت اقدس بمع خدام جب باہر سیر کے واسطے تشریف لے گئے تو اس ڈھاب کے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا کہ:۔پھر فرمایا:۔66 ایسا پانی گاؤں کی صحت کے واسطے مضر ہوتا ہے۔“ اس پانی میں بہت سا گند شامل ہو جاتا ہے اور اس کے استعمال سے کراہت آتی ہے۔اگر چہ فقہ کے مطابق اس سے وضو کر لینا جائز ہے کیونکہ فقہاء کے مقرر کردہ وہ در دہ