فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 611

فقہ المسیح — Page 48

فقه المسيح 48 علم فقہ اور فقہاء مذہب ہے۔اس پر حضرت صاحب نے اپنی جیب سے مولوی صاحب کا وہ کارڈ نکالا اوران کی طرف پھینک کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ پھر اس کا کیا مطلب ہے؟ مولوی صاحب شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے جو شعر لکھا تھا اس کا یہ مطلب تھا کہ اگر چہ میں اپنی رائے میں تو اہل حدیث ہوں لیکن چونکہ میرا پیر طریقت کہتا ہے کہ اپنے آپ کو حنفی کہو۔اس لئے میں اس کی رائے پر اپنی رائے کو قربان کرتا ہوا اپنے آپ کو حنفی کہتا ہوں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ احمدیت کے چرچے سے قبل ہندوستان میں اہلِ حدیث کا بڑا چرچا تھا اور حنفیوں اور اہل حدیث کے درمیان ( جن کو عموما لوگ وہابی کہتے ہیں ) بڑی مخالفت تھی اور آپس میں مناظرے اور مباحثے ہوتے رہتے تھے اور یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے گو یا جانی دشمن ہورہے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف فتوی بازی کا میدان گرم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام گودر اصل دعوی سے قبل بھی کسی گروہ سے اس قسم کا تعلق نہیں رکھتے تھے جس سے تعصب یا جتھہ بندی کا رنگ ظاہر ہو لیکن اصولاً آپ ہمیشہ اپنے آپ کو حنفی ظاہر فرماتے تھے اور آپ نے اپنے لئے کسی زمانہ میں بھی اہل حدیث کا نام پسند نہیں فرمایا۔حالانکہ عقائد و تعامل کے لحاظ سے دیکھیں تو آپ کا طریق حنفیوں کی نسبت اہل حدیث سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔اہل حدیث طریق کی ناپسندیدگی (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 333 334) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خواجہ عبدالرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ میرے والد میاں حبیب اللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے نماز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقعہ ملا اور چونکہ میں احمدی ہونے سے قبل وہابی (اہلحدیث ) تھا۔میں نے اپنا پاؤں