فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 95
۹۵ ہونے کے بعد اپنا نکاح کہہ کرنے کا حق مسلم ہے اس لئے اس حق کو اولیت حاصل ہوگی اور مدت کا معاملہ ثانوی امر ہو گا جس کا فیصلہ تنازعہ زیر غور کے مخصوص حالات کے پیش نظر کیا جائے گا حضت ا خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں :- یہ محض عقلی چیز ہے۔عقلاً کسی لڑکی کے متعلق جتنا عرصہ ضروری سمجھا جائے گا اسکے لئے ہم خیار بلوغ کی وہی معیار قرار دیں گے۔اس میں سالوں یا عمر کی تعین نہیں کی جاسکتی خیار بلوغ کی تشریح آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہیں فرمائی گذشتہ فقہاء نے کی ہے اور چونکہ یہ تشریح فقہاء نے کی ہے اس لئے ہر زمانہ کے فقہاء کو اختیار ہے کہ وہ اِس بارہ میں عقلی طور پر جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں۔ایک وقت ایسا تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد صحابہ" کی تمام جماعت رہتی تھی اور فتونی جماعت کے تمام افراد میں اُسی وقت پھیل جاتا تھا لیکن اب وہ زمانہ ہے کہ لوگ دینی مسائل سے اکثر نا واقف ہوتے ہیں اس نا واقفیت کی بناء پر جتنی دیر ضروری سمجھی جائے گی اس کو ملحوظ رکھنا پڑے گا کیونکہ دینی مسائل سے نا واقفیت خود اپنی ذات میں ایک ایسی چیز ہے جو فتویٰ کو بدل دیتی ہے " سے ایک اور قضائی فیصلہ میں حضور فرماتے ہیں :- " اظہار نفرت نکاح کے بعد معقول طور پر قریب عرصہ میں ثابت ہے اور سوال صرف بہت قریب کا ہے تو میرے نزدیک ایسے مشکوک فرق کے لئے ہم عورت کے حق کو باطل نہیں کر سکتے خصوصا جب کہ ہم دیکھتے کہ خیار بلوغ کا مسئلہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جس سے عام طور پر لوگ واقف اور آگاہ ہوں ایسے مسائل کے متعلق قدرتی طور پر تر دو زیادہ ہوتا ہے یا کے له الفضل ۳۱ اکتوبر ۶۱۹۴۴ کے حضور کے قضائی فیصلہ جات کا رجسٹر نمبر ۲ ص دارالقضاء ربوہ