فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 87
AL اور جب تک وہ واپس نہ ہو اس وقت تک ضلع کا فیصلہ ملتوی رہے۔۲ - طلاق کی صورت میں خاوند حق مہر اور دیگر تحائف وغیرہ جو وہ دے چکا ہے واپس لینے کا مجاز نہیں ہوتا لیکن خلع کی صورت میں عورت کو اکثر وہ مالی مفادات چھوڑنے ہونگے یا واپس کرنے ہوں گے جو وہ خاوند سے حاصل کر چکی ہے۔اس سلسلہ میں ثابت بن قیس " کی بیوی کا واقعہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے جسے صحیح بخاری ، نسائی کے علاوہ دیگر متعدد محدثین نے بھی بیان کیا ہے۔دفعہ نمبر ۳۷ خلع کے فیصلہ کے لئے قاضی کا صرف اِس قدر اطمینان کافی ہے کہ عورت خود اپنی آزادانہ رائے سے ضلع چاہتی ہے۔ضلع کے مطالبہ کے لئے کسی اور وجہ کا اظہار یا ثبوت لازمی نہ ہوگا۔تشریح :- وجوہات ضلع میں صرف یہ وجہ کافی ہے کہ عورت کہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس رہنا یا اگر رخصتانہ نہیں ہوا تو اس کے پاس جانا پسند نہیں کرتی اور اسے اپنے خاوند سے نفرت ہے۔نفرت کی وجوہات ظاہر کرنے کی وہ پابند نہیں۔صاحب نیل الاوطار احادیث ضلع پر بحث کرتے ہوئے بطور خلاصہ لکھتے ہیں :- ظَاهِرُ أَحَادِيثِ الْبَابِ اَنَّ مُجْرَدَ وَجُودِ الشَّقَاقِ مِنْ قِبَلِ الْمَرْأَةِ كَانِ فِي جَوَازِ الْخُلُعِ له بخاری کتاب الطلاق باب الخلع جلد ۲ له نيل الأوطار كتاب الخلع م Y ۷۹۴