فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 86 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 86

۸۶ اس کے بالمقابل جب مرد کو عورت کی طرف سے تکلیف ہو اور وہ اسے نہ چاہتا ہو تو شارع نے اسے طلاق دینے کا اختیار دیا ہے" لے۔ضلع کے لئے بیوی کو اپنا معاملہ قاضی کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔اس کی حکمت یہ بھی ہے کہ شادی کے موقع پر خاوند کم و بیش بعض مالی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے اور بیوی یا اس کے والدین کے مطالبہ پر وہ بالعموم حق مہر کے علاوہ بھی زائد اخراجات برشاشات کرتا ہے۔اب اگر خاوند سے علیحدگی کے معاملہ میں عورت سراسر زیادتی کی مرتکب ہو رہی ہوا اور خاوند کا کوئی قصور نہ ہو بلکہ وہ مظلوم ہو تو قاضی اِس بات کو زیر غور لا سکتا ہے کہ خاوند پر یہ نا واجب مالی بوجھ کیوں پڑے اور کیوں نہ مہر کے علاوہ زائد خرچ بھی عورت سے واپس دلوایا جائے۔اسی طرح اگر عورت مہر وصول کر چکی ہے تو اس کی واپسی کا معاملہ بھی قضاء یا عدالت حل کر سکتی ہے۔لیکن اگر ضلع کے ذریعہ عورت کو بھی مرد کی طرح خود بخود علیحدگی کا اختیار ہوا اور قاضی سے فیصلہ حاصل کرنا ضروری نہ ہو تو مہر یا دوسری مالی ذمہ داریوں کے بارہ میں تنازعہ پیدا ہو سکتا ہے۔نیز بعض اوقات عورت اپنی ناسمجھی یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے غلط بنیاد پر ضلع کے لئے اصرار کر رہی ہوتی ہے جب معاملہ قاضی کے سامنے آئے گا تو قاضی کے لئے اس کو سمجھانے یا صورت حال واضح کرنے کا موقع میسر آ سکتا ہے اور اِس بات کا بڑی حد تک اِمکان ہے کہ عورت سمجھ جائے اور علیحدگی تک نوبت نہ پہنچے لیکن اگر عورت خلع لینے پر مصر ہو اور سمجھانے کے باوجود اپنی ضد پر قائم رہے تو قاضی اس کے مطالبہ پر علیحدگی کا فیصلہ تو صادر کر دے گا لیکن اگر وہ دیکھے گا کہ عورت ظلم کی مرتکب ہو رہی ہے اور اس کا رویہ جارحانہ ہے اور خاوند کا کوئی قصور نہیں تو وہ ضلع کے فیصلہ کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کر سکتا ہے کہ خاوند نے عورت یا اس کے والدین کے مطالبہ پر جو کچھ بھی خرچ کیا ہے وہ خاوند کو واپس کیا جائے۔لَمَّا جُعِلَ التَّطلِيقُ بِيَدِ الرَّجُلِ إِذَا فَرِكَ الْمَرْأَةَ جُعِلَ الْخُلُعَ بِيَدِ الْمَرْأَةِ إذَا فَرِكَتِ الرّجُل۔۵۶ ( بداية المجتهد كتاب النكاح الباب الثالث في الخُلمِ م ،