فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 85 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 85

۸۵ اس سے نہیں ملتی اور اس وجہ سے مجھے اس سے سخت نفرت ہے۔پس ایسے حالات ہیں لیکن اس کے حقوق ادا نہیں کر سکوں گی اور ناشکری کی مرتکب ہوں گی اِس لئے مجھے علیحدگی دلوائی جائے۔آپ نے فرمایا کیا مہر میں لیا ہوا باغ واپس کرنے کو تیار ہو۔اس نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ بلکہ اس سے زیادہ بھی۔آپ نے فرما یا مصر میں لیا ہوا باغیچہ واپس کر دو اس سے زیادہ نہیں ہے مذکورہ بالا ارشاد سے خلع کے سلسلہ میں حسب ذیل پہلو واضح ہوتے ہیں :۔: جس طرح طلاق کے ذریعہ میاں کو علیحدگی کا اختیار حاصل ہے اسی طرح ضلع کے ذریعہ بیوی کو علیحد گی طلب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ب : خلع کی صورت میں بیوی کی علیحدگی کے لئے ضروری ہے کہ وہ قاضی کے سامنے اپنا معاملہ پیش کرے اور اس کی مدد سے علیحدگی اختیار کرے۔ج : خلع کی صورت میں بیوی کو وہ مالی مفادات واپس کرنے ہوں گے جو وہ اپنے میاں سے حاصل کر چکی ہے اس کی واضح مثال مہر کی واپسی ہے۔- میاں خواہ راضی ہو یا راضی نہ ہو بیوی کے اصرار کی صورت میں قاضی ان دونوں کے در میان علیحدگی کا حکم صادر کر سکتا ہے ایسی علیحدگی کو ضلع کہتے ہیں۔ل : خلع کی عدت صرف ایک حیض ہے یا وضع حمل ہے ہے۔و :۔نفس ضلع کے لحاظ سے عورت کو ضلع طلب کرنے کا ایسا ہی حق ہے جیسا مرد کو طلاق دینے کا حق ہے جس طرح کوئی شخص مرد کو طلاق دینے سے روک نہیں سکتا اسی طرح کوئی شخص عورت کو خلع لینے سے بھی نہیں روک سکتا۔علامہ ابن رشد کا یہی مسلک تھا۔چنانچہ وہ ضلع پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔خلع عورت کے اختیار میں ہے بمقابلہ مرد کے اختیار طلاق کے جس میں وہ مختار ہے۔جب عورت کو مرد کی طرف سے کوئی تکلیف ہو اور اس وجہ سے وہ اسے ناپسند کرتی ہو تو وہ اپنے حق اختیار ضلع کو استعمال کر کے علیحدگی حاصل کر سکتی ہے له بخاری کتاب الطلاق باب الخلم جلد ه ص - ابن ماجه باب المختلعة تاخذ ما۔۲۴۵ اعطاها مث۔دارقطني م۳۹ - نصب الرايه ٣٢۔تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۴۳ بحث عدت۔