فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 82
دے گا تو یہ اس کی " طلاق بستہ ہوگی اور دونوں میں قطعی جدائی ہو جائے گی نہ رجوع ہو سکے گا اور نہ دوبارہ نکاح - گویا طلاق بتہ کے واقع ہونے کے لئے دو طلاقوں کے درمیان یا تو رجوع حائل ہونا چاہیے یا دوسرا نکاح۔اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں تو خواہ کتنی بار وہ منہ سے طلاق کا لفظ بولے طلاق ایک ہی متصور ہوگی۔اس مسلک کو فقہاء سلف میں سے بھی بعض (مثلاً امام شوکانی وغیرہ نے تسلیم کیا ہے اور اسے ” طلاق مغلظہ“ کا نام دیا ہے یہ طلاق بتہ کے بارہ میں یہ نظریہ اگرچہ فقہائے احناف کے مسلک کے خلاف ہے لیکن فقہ احمدیہ آیات قرآنی اور احادیث الرسول اور بعض ائمہ سلف اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے جانشینوں لے کے احکام کی روشنی میں اسی بات کی قائل ہے کہ طلاق بائن کے بعد فریقین آپس میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں سوائے اس کے کہ طلاق تیسری مرتبہ بائن ہو جائے اور اسی کو طلاق بتہ یا طلاق له روضة النديه شرح الدرر البهيه كتاب الطلاق طلا ے سیدنا حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں :۔عام طور پر اس زمانہ کے علماء یہ مجھتے ہیں کہ جس نے تین دفعہ طلاق کہہ دیا اس کی طلاق بائن ہو جاتی ہے یعنی اس کی بیوی اس سے دوبارہ اس وقت تک شادی نہیں کر سکتی جب تک کسی اور سے نکاح نہ کرے مگر یہ غلط ہے کیونکہ قرآن کریم میں صاف فرمایا گیا ہے الطَّلَاقُ مَرَنِ" یعنی وہ طلاق جو بائن نہیں وہ دو دفعہ ہو سکتی ہے۔اس طور پر کہ پہلے مرد طلاق دے پھر یا طلاق واپس لے لے اور رجوع کرے یا عدت گذرنے دے اور نکاح کرے پھر ان بن کی صورت میں دوبارہ طلاق دے پیس ایسی طلاق کا دو دفعہ ہونا تو قطعی طور ثابت ہے۔پس ایک ہی دفعہ تین یا تین سے زیادہ بار طلاق کہہ دینے کو بائن قرار دینا قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے طلاق وہی بائن ہوتی ہے کہ تین بار مذکورہ بالا طریق کے مطابق طلاق دے اور تین مدیتیں گزر جائیں اس صورت میں نکاح جائزہ نہیں جب تک کہ وہ عورت کسی اور سے دوبارہ نکاح نہ کر سے اور اس سے بھی اس کو طلاق نہ مل جائے لیکن ہمارے ملک میں یہ طلاق مذاق ہوگئی ہے اور اس کا علاج حلالہ جیسی گندی رسم سے نکالا گیا ہے" تفسیر صغیر زیر آیت سوره بقره ۲۳۰ ایڈیشن ششم مثه ) اس جگہ بائن کا لفظ بينونة کبرای یعنی طلاق بتہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے۔