فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 75 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 75

وقعہ نمبر ۳۴ طلاق کا ثبوت یا تو میاں بیوی دونوں کے اقرار سے ہوگا یا گواہوں کی گواہی سے مستند تحرر بھی گواہی کے قائمقام سمجھی جاسکتی ہے۔ه دفعہ نمبر ۲۵ قابل رجوع یا قطعی ہونے کے لحاظ سے طلاق کے تین درجے ہیں۔د طلاق رجعی - ب - طلاق بائن ج - طلاق بتہ تشریح : جیسا کہ پہلے وضاحت آچکی ہے کہ طلاق " ابغض الحلال ہونے کی وجہ سے ایک انتہائی ناپسندیدہ فعل اور ایک ناگزیر برائی ہے۔اس لئے اس منزل تک پہنچنے سے پہلے انتہائی سوچ بچار کر لینا ضروری ہے۔اسی لئے شریعت نے تحکیم کی ہدایت کی ہے اور تحکیم کے بعد اگر علیحد گی ضروری ٹھہرے تو بھی اس نازک تعلق کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے سے پہلے مرد کو بار بار سوچ بچار کرنے کے مواقع مہیا کئے ہیں اور اسی لئے الگ الگ وقتوں میں تین طلاق دینے کی رعایت خاوند کو دی گئی ہے۔طلاق رجعی طلاق رجعی وہ طلاق ہے جس میں عدت کے دوران خاوند رجوع کر سکتا ہے مثلاً ایسے ایام میں ه ابوداؤد کتاب الطلاق باب في كراهية الطلاق ص19 عدت کی تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۴۳ - من