فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 73
اِنْ تُرِيْدَا إِصْلَاحًا تُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا یعنی اگر تمہیں ان دونوں میاں بیوی کے آپس کے تعلقات میں تفرقہ کا خوف ہو تو ایک نمائندہ اس مرد کے رشتہ داروں سے اور ایک نمائندہ اس عورت کے رشتہ داروں سے مقرر کہ وہ پھر اگر وہ دونوں پہنچ صلح کرانا چاہیں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں میاں بیوی کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔اللہ یقینا بہت جاننے والا اور خبردار ہے۔پس اگر اس ذریعہ کو استعمال کرنے کے باوجود مصالحت نہ ہو سکے تو ابغض الحلال" ہونے کے باوجود با مرمجبوری اسلام نے میاں بیوی کو بذریعہ طلاق یا ضلع علیحدگی اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔دفعہ نمبر ۳۲ تعلق نکاح جب مرد کی طرف سے ختم کیا جائے تو اسے طلاق اور جب عورت کی طرف سے ختم کرنے کا مطالبہ ہو تو اسے خلع کہتے ہیں۔تشریح:- طلاق کے لفظی معنی " ازالہ الفقید" کے ہیں یعنی قید سے رہائی اور آزادی دینا اور اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ مرد کی طرف سے تعلق نکاح کو ختم کیا جائے اور وہ زبانی یا تحریر ی طور پر یہ کہہ کہ کہ کیس تجھے طلاق دیتا ہوں عورت کو اُس پابندی سے آزاد کر دے جو معاہدہ نکاح کے ذریعہ اس پر عائد ہوئی تھی۔طلاق دیتے وقت خاوند کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ طلاق کی کوئی وجہ بیان کرے۔شریعیت نے وجہ بیان نہ کرنے کی جو آزادی دی ہے اس میں عظیم مصلحتیں ہیں کیونکہ شارع کا منشاء یہ ہے کہ سے سورۃ النساء آیت ۳۶