فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 67 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 67

کے خلاف بغض و عناد کی آگ سے محفوظ ہو جاتے ہیں اور خاوند بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داریوں سے آزاد ہو جاتا ہے یہ اگر خاوند کی طرف سے صرف زنا کا الزام ہو تو لعان کے بعد دونوں کے درمیان تفریق واجب ہے لیکن اگر زنا کے الزام کے علاوہ بچے کے نسب کی نفی کا دعوامی بھی شامل ہو تو اس صورت میں لعان کے بعد خاوند سے مولود کا نسب ثابت نہ ہو گا جیسا کہ ابن عباس کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال ابن امیہ اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کے بعد بچے کی نسب صرف اس کی ماں کے ساتھ منسلک کردی تھی۔روایت کے الفاظ یہ ہیں :- لا عن بَيْنَ الرَّجُلِ وَامرَأَتِهِ فَانتَفى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَالْحَقَ الْوَلَد بِالْمَرأَة - له یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد اور عورت کے درمیان لعان کروایا اور مرد نے اس لڑکے کی نفی کا بھی دعوای کیا۔اس بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں تفریق کرا دی اور بچہ عورت کے ساتھ ملحق کر دیا۔لیکن یہ نفئی ولادت صرف اس صورت میں مؤثر ہو گی جب کہ نفی کرنے والا اس سے پہلے کسی وقت صراحتاً یا کفایہ اقرار نسب نہ کر چکا ہو۔اقرار نسب کے بعد انکار درحقیقت ایک مسلمہ حقیقت سے انکار ہے جو شرعاً اور قانوناً جائز نہیں ہے۔کنایہ اقرار نسب سے مراد یہ ہے کہ مثلاً وہ ایک وقت تک بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری خاموشی سے برداشت کرتا رہا ہو یا بیوی اور دیگر عزیز و اقارب کی طرف سے اس بچے کا نسب اپنی طرف منسوب ہوتے ہوئے سنتا رہا ہو اور کسی مرحلہ پر اس نے انکار یا انحراف نہ کیا ہو تو ان سب صورتوں میں اس کی طرف سے نفی ولادت مؤثر نہ ہوگی اور نہ وہ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داریوں سے بری ہو گا۔لے سوائے اس کے کہ دینی مصلحت کا تقاضا ہو کہ لعان کے باوجود خاوند بیچتے کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہے۔له بخارى كتاب الطلاق باب يلحق الولد بالملاعنة جلد ۲ صفحه ا A۔I