فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 66
۶۶ زنا کرتے دیکھا ہے اور اس الزام ہیں وہ سچا ہے اور پانچویں شہادت یہ دے کہ اگر وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔اس کے بعد اس کی بیوی اگر الزام کی صحت سے انکار کرے تو وہ اللہ کی قسم کھا کر چار مرتبہ یہ کہے کہ اس کا خاوند یہ الزام لگانے میں جھوٹا ہے اور پانچویں قسم اس طرح کھائے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے تو خدا کا غضب اس پر (یعنی مجھ پر) نازل ہو۔لعان کا ثبوت اللہ تعالٰی کے اس ارشاد سے ہوتا ہے :- وَالَّذِينَ يَرْمُونَ ازْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةٌ احدِهِمْ اَرْبَعُ شَهَدَتِ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِيْنَ ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَذِبِينَ ، وَيَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ ارْبَعَ شَهَدَتِ بِاللهِ اِنَّهُ لَمِنَ الْكَذِبِينَ : وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّدِقِينَ۔یعنی جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس سوائے اپنے وجود کے اور کوئی گواہ نہ ہو تو ان میں سے ہر شخص کو ایسی گواہی دینی چاہئے جو اللہ کی قسم کھا کر چار گواہیوں پرشتمل ہوا ور ہر گواہی میں وہ یہ کہے کہ وہ راستبازوں میں سے ہے اور پانچویں گواہی میں کہے کہ اس پر خدا کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔اور وہ بیوی جس پر اس کا خاوند الزام لگائے اپنے نفس پر سے چار ایسی گواہیوں کے ذریعے سے جو قسم کھا کر دی گئی ہوں عذاب دُور کرے۔یہ کہتے ہوئے کہ وہ خاوند جھوٹا ہے۔اور پانچویں قسم اس طرح کھائے کہ اللہ کا غضب اس عورت پر نازل ہو اگر وہ الزام لگانے والا خاوند تیچا ہے۔لعان کا حکم در حقیقت خاوند اور بیوی ہر دو کے لئے شریعت کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے بلکہ اس کے ذریعہ سے خاوند حد قذن سے بچ جاتا ہے اور بیوی حد زنا اسے بیٹے لعان کے بعد فریقین کے درمیان تفریق لازم ہے کیونکہ اس تفریق کی وجہ سے فریقین ایک دوسرے سورة النور آیت ۷ تا ۱۰ سے رائج الوقت قانون کے تحت اس وقت یہ حدیں نافذ العمل نہیں۔