فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 61 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 61

دفعہ نمبر ۲۵ ۶۱ شرائط مندرجہ دفعہ نمبر ۲۴ کے تحت اقرار نسب کے بعد بیمہ کا نسب متعین ہو جائے گا اور بعد ازاں اقرار کرنے والا اس سے منکر نہیں ہو سکے گا۔تشریح دفعات نمبر ۲۳، نمبر ۲۴، نمبر ۲۵ :- اسلام میں بچے کے نسب کو حتی الامکان صحیح قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اگر ولادت ایسے حالات میں ہوئی ہے جن کا ذکر دفعہ نمبر ۲۳ میں ہے تو بچے کا نسب ولادت سے بلا دعوی ثابت ہوگا اور اس میں کلام کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔دعوای کے بغیر محض ولادت سے نسب ثابت کرنے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ بچہ نکاح کے بعد پیدا ہوا ہو نکاح سے پہلے بچے کی پیدائش سے خود بخود نسب ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ دفعہ نمبر ۲۳ میں مذکور ہے۔پس ولادت سے نسب ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بچہ نکاح صحیح یا نکارج خامد کے بعد پیدا ہوا ہو۔دفعہ مذکور میں زور نکاح کے صحیح یا فاسد اور اس کے معتبر ہونے پر نہیں بلکہ نکاح تنقیح یا نکاح فاسد کے بعد پیدائش پر ہے۔البتہ نکاح باطل کے بعد عام حالات میں پیدائشی سے نسب ثابت نہیں ہوتا۔دوسری شرط یہ ہے کہ مرد اور عورت مباشرت کے قابل ہوں۔اگر خاوند یقینی طور پر نا بالغ ماہ ہو تو محض ولادت کی بناء پر بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا۔تیسری شرط یہ ہے کہ بچہ نکاح کے بعد کم ازکم چھ ماہ کا عرصہ پورا ہونے یا اس کے بعد پیدا ہوا ہو۔اگر بچہ چھ ماہ سے پہلے پیدا ہوا ہو تو محض ولادت سے نسب ثابت نہیں ہوگا۔اس سلسلہ میں اُصول یہ ہے کہ نکاح کے بعد بچے کی ولادت طبعی مدت حمل میں ہوئی ہو۔طبعی مدت حمل سے مراد کم سے کم مدت حمل بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ مدت حمل بھی۔جمل کی کم از کم مدت نکاح کے بعد چھ ماہ ہے اور یہ مدت حمل آیاتِ قرآنی سے مستنبط ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- ے وضاحت کے لئے دیکھئے دفعہ نمبر 19 نکاح باطل اور اس کی تشریح۔