فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 59 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 59

۵۹ دوسری شادی کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے دوہی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ بیوی کی بیماری کی وجہ سے خاوند بھی عملاً تجرد کی زندگی پر مجبور ہو جائے جو بذات خود قانون فطرت سے بغاوت ہے دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مرد خود کو دوسری شادی کے لئے آزاد کرنے کی خاطر بیمار بیوی کو طلاق دیدے اور خود دوسری شادی کرلے حالانکہ پہلی بیمار بیوی علیحد گی نہیں چاہتی۔پس ان حالات میں معقول صورت وہی ہے جو اسلام نے پیش کی ہے اور عدل و مساوات کی شر کے ساتھ دوسری شادی کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ بیمار بیوی اپنے سہارے سے بھی محروم نہ ہو اور اس کا شوہر محض بیوی کی بیماری کی وجہ سے فطرت سے بغاوت پر بھی مجبور نہ ہو۔یہی صورت عورت کے بانجھ ہونے کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے اس کے علاوہ مرد طبعی طور پر بھی بعض اوقات ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت محسوس کر سکتا ہے۔اس صورت میں مغربی معاشرہ اپنے افراد کو دوسری شادی کی اجازت تو نہیں دیتا مگر شادی کے بغیر جنسی تعلق کو برداشت کر لیتا ہے لیکن اسلام شادی کے بغیر جنسی تعلق کو روا نہیں رکھتا بلکہ اس کے نزدیک معاشرے کی صحت مند تشکیل اور ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کرنے کے لئے غیر شادی شدہ ملاپ کی بجائے تعدد ازدواج کی اجازت دینا اقرب الی الصواب ہے۔اسلام نے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت عدل و مساوات کی شرط کے ساتھ مشروط کی ہے جیسا کہ فرمایا :- فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً له یعنی اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی عورت سے نکاح کرو۔لہذا اگر کوئی شخص ایک سے زائد شادیاں کرنے میں عدل کی شرط کو ملحوظ نہ رکھ سکے یا پہلی بیوی سے ظالمانہ سلوک روا رکھے اور دوسری شادی میں اس کی رضامندی کو ملحوظ نہ رکھے نہ اسے اطلاع دے اور نہ اس کے حقوق کی ادائیگی کرے اور نہ سب کے ساتھ عدل قائم رکھنے کا یقین دلائے تو حالات کے مطابق مناسب قانون کے ذریعہ ایسے شخص کو ایک سے زائد شادیاں کرنے سے روکا جاسکتا ہے یا پہلی ں بیوی کو اس کے جملہ حقوق کے ساتھ حق علیحدگی" دیا جا سکتا ہے۔ل سورة النساء آیت م