فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 48 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 48

صورتیں ہوسکتی ہیں :۔: اگر کوئی مرد اپنا نکاح کرے اور وہ کوئی مہر مقرر نہ کرے اور بعد میں مقدار مہر کے بارہ میں تنازعہ اُٹھ کھڑا ہو۔ب : - کوئی شخص کسی عورت سے اس شرط پر نکاح کرے کہ حق مہر کوئی نہ ہو گا۔ج :- مہر محمول مقرر کرے مثلاً نکاح کے وقت جنس یا نوع کا ذکر تو ہو مگر اس کی تعیین نہ ہوئی ہو۔مہر میں کوئی ایسی چیز مقرر کی جس کی کوئی مالیت نہیں یا جسے ٹال نہیں کیا جا سکتا۔ران سب صورتوں میں نکاح صحیح ہو جائے گا اور مہر لازم ہو گا لیکن نکاح کے بعد اگر مہر کی مقدار میں تنازعہ ہو تو قاضی کے فیصلہ کے مطابق مہر مثل کی ادائیگی واجب ہوگی۔دفعہ نمبر ۱۳ مہر کی مقدار مہر کی رقم خاوند کی مالی حیثیت کے مطابق ہونی چاہیئے۔تشریح فقہاء سلف نے حق مہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں کی۔ان کی تمام تر توجہ اقل مقدار کی طرف رہی ہے۔زمانہ ماضی میں چونکہ رجحان یہ تھا کہ کم سے کم مہر کتنا ہو سکتا ہے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ حق مہر کی اہمیت واضح ہو اور معقولیت کی حد سے کم حق مہر مقرر نہ کیا جائے۔چنانچہ اُس زمانہ کے معیار زندگی کے مطابق یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے فقراء المهاجرین نے جو حق مہر کئے تھے ان کی مقدار کو کم از کم حق مہر قرار دیا گیا اور معیار یہ ٹھرا کہ فقراء المهاجرین نے جو حق مہر باندھے اس سے کم حق مہر کسی صورت میں نہ ہو۔حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک کم سے کم مقدار مہر دس درہم یا اس کی مساوی مالیت کی کوئی شئے