فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 45
۴۵ عورت کے مطالبہ پر قضاء فوری ادائیگی پر خاوند کو مجبور کرسکتی ہے۔به مهر موقبل مقررہ مہر کا وہ حصہ ہے جو زوجین کی علیحدگی یا خاوند کی وفات کے بعد قابل ادا ہو جیسا کہ ذکر آچکا ہے۔مہر ایک قرضہ ہے جو خاوند کے ترکہ میں سے اس کے دیگر قرضوں کی طرح ادا ہونا چاہیے۔مر مسمی کے بالمقابل مہر محمول ہے جس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں جیسے کسی مجہول جنس یا نوع کا ذکر کرنا لیکن اس کی تعین نہ کرنا مثلاً یہ کہا جائے کہ میں حق مہر میں کوئی جانور ، زمین ، مکان یا کار وغیرہ دوں گا مگر اس کی تعین نہ کی جائے یا اس کی مالیت کی تعیین نہ کی جائے یا اعلان نکاح میں مہر کا ذکر نہ ہو یا فریقین کے درمیان مہر کی مقدار میں تنازعہ ہو اور ثبوت موجود نہ ہو۔ان سب صورتوں میں اگر باہمی رضامندی سے کوئی بات ملے نہ ہو سکے اور تنازعہ عدالت میں جائے تو مہر مثل واجب الادا ہو گا۔دفعہ نمبر مهر تجل مہر معجل کی صورت میں بیوی جب چاہے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے۔تشریح چونکہ عورت مہر کی کلیۂ حقدار ہے اور یہ نکاح کے ساتھ ہی خاوند پر واجب ہو جاتا ہے۔اس لئے عورت جب چاہے اس کا مطالبہ کر سکتی ہے یہاں تک کہ ائمہ اور فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ ابتداء جب کہ ابھی تعلقات زوجیت قائم نہ ہوئے ہوں عورت کو اختیار ہے کہ وہ خاوند کوتا ادائیگی مهر تعلقات زوجیت قائم کرنے سے روک دے۔اگر تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہوں تو اس صورت ے مہر مثل کی تشریح کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۱۲